حدیث نمبر: 5954
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس پر گواہی دینے والوں پر، اس کے بارے میں لکھنے والے پر، حسن کے لئے گوند نے والی پر اور گوندوانے والی پر، صدقہ ادا نہ کرنے والے پر ، حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیاجائے،ان سب افراد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے منع کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ باقی امور کی وضاحت ان کے مقام پر آئے گی۔
حدیث نمبر: 5955
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر اور اس کا معاملہ لکھنے والے پر لعنت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں بینکوں میں نوکری کرنے والوں کو متنبہ رہنا چاہیے۔
گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب ِ الہی کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے بہاؤ کو پشت پر وصول کر کے اس کے سیلاب کا تنکہ نہ بنا جائے، بلکہ اس لعنت کی صورتوں کو سمجھا جائے، بالخصوص بینکوں کی پالیسیوں اور معاملات کا بار بار جائزہ لیا جائے۔ موجودہ دور میں مالداروں اور سرکاری ملازمین کی اکثر و بیشتر تعداد سود خوری میں مبتلا ہے۔
گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب ِ الہی کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے بہاؤ کو پشت پر وصول کر کے اس کے سیلاب کا تنکہ نہ بنا جائے، بلکہ اس لعنت کی صورتوں کو سمجھا جائے، بالخصوص بینکوں کی پالیسیوں اور معاملات کا بار بار جائزہ لیا جائے۔ موجودہ دور میں مالداروں اور سرکاری ملازمین کی اکثر و بیشتر تعداد سود خوری میں مبتلا ہے۔
حدیث نمبر: 5956
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ بِلَفْظِهِ وَحُرُوفِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بالکل اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 5957
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا قَالَ قِيلَ لَهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ قَالَ مَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ مِنْهُمْ نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو ں پر ایک ایسا وقت آئے گاکہ یہ سود کھائیں گے۔ کسی نے کہا: کیا سب لوگو سود خور بن جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نہیں کھائے گا تو اس کا غبار اس تک ضرور پہنچے گا۔
حدیث نمبر: 5958
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سود اگرچہ زیادہ ہو، بہرحال اس کا انجام قلت ہی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِیْ الصَّدَقَاتِ۔} … اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۷۶) (یہ سرخ الفاظ شرح کے ہیں)
حدیث نمبر: 5959
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا: سود کاایک درہم کہ آدمی جاننے بوجھنے کے باوجود جس کو کھاتا ہے، وہ چھتیس دفعہ زنا کرنے سے بھی سخت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسیل الملائکہ کہتے ہیں،یہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے، ان کی شہادت کے بعد فرشتوں نے ان کو غسل دیا تھا۔
حدیث نمبر: 5960
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ عَنْ كَعْبٍ قَالَ لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمَ رِبًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں تینتیس مرتبہ زناکروں تو مجھے یہ برائی سود کا ایک درہم کھانے سے ہلکی محسوس ہو گی، جبکہ اللہ تعالی جانتا ہو کہ میں اس کو سود سمجھ کر ہی کھا رہا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو یہیقین ہو کہ وہ واقعی سود کا درہم کھا رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 5961
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قو م میں سود عام ہو جائے، اس کو قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے، اس پر دوسروں کا رعب مسلط کر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5962
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَجُلًا يَسْبَحُ فِي نَهْرٍ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَسَأَلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ لِي آكِلُ الرِّبَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں نے ایک آدمی دیکھا، وہ ایک نہر میں تیررہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر پھینکے جارہے تھے، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے ، مجھے کہا گیا کہ یہ سود خور ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سود حرام ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اس کی بہت زیادہ مذمت کی ہے، سود کی سنگینی پر دلالت کرنے والے مزید تین دلائل ملاحظہ کریں: ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔} (سورۂبقرہ: ۲۷۹) … ’’اگر تم (سود والے معاملے پر عمل کرنے سے) باز نہ آئے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان سن لو۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ راہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دِرْھَمُ رِبًایَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنْیَۃً۔)) … ’’جو آدمی دانستہ طور پر ایک درہم سود کھاتا ہے، اللہ تعالی کے ہاں(اس کا یہ جرم) چھتیس دفعہ زنا کرنے سے سنگین ہے۔‘‘ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۲، دارقطنی: ۲۹۵، صحیحہ:۱۰۳۳)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُوْنَ بَاباً، أَدْنَاھٰا مِثْلُ إِتْیَانِ الرَّجُلِ أُمَّہُ، وَإِنَّ أَرْبَا الرِّبَا اسْتِطَالَۃُ الرَّجُلِ فِی عِرْضِ أَخِیْہِ۔)) … ’’سود کے ستر درجے ہیں، سب سے کم درجے (کا گناہ) اپنی ماں سے منہ کالا کرنے کے برابر ہے اور سب سے بڑا سود یعنی زیادتییہ ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے۔‘‘ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۳/ ۱، صحیحہ: ۱۸۷۱)
اگر عوام اور ان کی صورتحال اور بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے معاملات کو دیکھا جائے تو بہت مشکل ہو چکا ہے کہ سود کو سمجھا جائے اور اس سے بچا جائے، جبکہ سب سے زیادہ حرص اور لالچ ان بینکوں اور کمپنیوں کے مالکوں میں پائی جاتی ہے اور وہ لوگوں کا روپیہ پیسہ بٹورنے کے لیے چہار اطراف سے ان پر حملہ آور ہو چکے ہیں اور آئے دن ایسے ایسے پرکشش نام پیش کر رہے ہیں کہ لوگ جن کی آڑ میں آ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں، جبکہ وہ حقیقت سود یا جوے کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے، ایک انشورنس کمپنی سے جب ہماری بات ہوئی تو وہ واضح طور پر جوے والے معاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت
Qمعاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت کے ما بین کوئی ایک شق بھی مشترک نہیں تھی۔
سود کی تعریف: لغوی تعریف: سود کو عربی زبان میں ’’رِبًا‘‘ کہتے ہیں،یہ لفظ باب رَبٰییَرْبُوْ کا مصدر ہے، جس کے معانی زیادتی اور سود کے ہیں۔
اصطلاحاً اس کی دو اقسام ہیں: (۱) رِبَاالْفَضْل: خرید و فروخت میں ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادہ مقدار حاصل کرنا یا مقدار برابر ہونے کی صورت میں ایک طرف سے ادھار ہونا، اگلے باب میں سود کی اسی قسم کابیان ہے۔
آجکل صرافہ بازاروں میں سونے کی خرید و فروخت کے وقت سود کی اسی قسم کو اپنایا جاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ تقریباً تمام سنار سود خور ہیں الا ماشاء اللہ، اکثر یہ دیکھا کہ ایک طرف سے سونا نقد ہوتا ہے اور دوسری طرف سے ادھار اور اس کی مقدار میں بھی فرق ہوتا ہے،یہ سود کی واضح ترین قسم ہے، جو لوگ نقدی کے عوض سونا خریدتے ہیں، ان کو بھی اس معاملے میں ادھار پر خریدنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ہمارا روپیہ پیسہ بھی سونے اور چاندی کا عوض ہے، جبکہ سونے کے تاجر اپنے گاہکوں کو ادھار کی سہولت بھی دیتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں شادی کے موقع پر دولہا کے لیے نوٹوں کے جو ہار استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی خریداری بھی غور طلب معاملہ ہے، کیونکہ جس ہار میں (۵۰۰) روپے ہوتے ہیں، وہ تقریباً (۶۵۰، ۷۰۰) روپے میں فروخت ہوتا ہے، جبکہ اس پر نوٹوں کے علاوہ جوکچھ لگا ہوتا ہے، وہ قطعی طور پر اتنی زائد قیمت کا نہیں ہوتا، لہذا کہناپڑے گا کہ کم روپیوں کے بدلے زیادہ روپے وصول کیے جاتے ہیں اور یہ بھی سودی معاملہ ہے۔
(۲) رِبَا النَّسِیْئَۃ: ایک جیسی دو متبادل چیزوں میں سے کسی ایک کا زیادہ معاوضہ لینا، مگر ایک مقررہ مدت کے بعد۔ جیسے میمون نے قاسم کو بیس دنوں کے لیے ایک ہزار روپے ادھار دیے، شرعی قانون کے مطابق اتنی رقم ہی واپس لینی چاہیے، لیکن اس نے بیس دنوں کے عوض ایک ہزار سے زیادہ رقم وصول کی۔ بینک سے قرضہ لینے والے اور بینک میں رقم جمع کروانے والوں کا سود اسی قسم کا ہوتا ہے۔
جو لوگ اس قسم کے لین دین کو جائز سمجھتے ہیں، ان سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ شریعت میں جس سود کو حرام کو قرار دیا گیا ہے، اس کی تعریف کیا ہے اور آیا موجودہ دور میں اس کی کوئی شکل پائی جاتی ہے؟ یہ سود کا اجمالی تعارف ہے، اگلے ابواب میں مزید وضاحت کی جائے گی۔
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ راہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دِرْھَمُ رِبًایَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنْیَۃً۔)) … ’’جو آدمی دانستہ طور پر ایک درہم سود کھاتا ہے، اللہ تعالی کے ہاں(اس کا یہ جرم) چھتیس دفعہ زنا کرنے سے سنگین ہے۔‘‘ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۲، دارقطنی: ۲۹۵، صحیحہ:۱۰۳۳)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُوْنَ بَاباً، أَدْنَاھٰا مِثْلُ إِتْیَانِ الرَّجُلِ أُمَّہُ، وَإِنَّ أَرْبَا الرِّبَا اسْتِطَالَۃُ الرَّجُلِ فِی عِرْضِ أَخِیْہِ۔)) … ’’سود کے ستر درجے ہیں، سب سے کم درجے (کا گناہ) اپنی ماں سے منہ کالا کرنے کے برابر ہے اور سب سے بڑا سود یعنی زیادتییہ ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے۔‘‘ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۳/ ۱، صحیحہ: ۱۸۷۱)
اگر عوام اور ان کی صورتحال اور بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے معاملات کو دیکھا جائے تو بہت مشکل ہو چکا ہے کہ سود کو سمجھا جائے اور اس سے بچا جائے، جبکہ سب سے زیادہ حرص اور لالچ ان بینکوں اور کمپنیوں کے مالکوں میں پائی جاتی ہے اور وہ لوگوں کا روپیہ پیسہ بٹورنے کے لیے چہار اطراف سے ان پر حملہ آور ہو چکے ہیں اور آئے دن ایسے ایسے پرکشش نام پیش کر رہے ہیں کہ لوگ جن کی آڑ میں آ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں، جبکہ وہ حقیقت سود یا جوے کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے، ایک انشورنس کمپنی سے جب ہماری بات ہوئی تو وہ واضح طور پر جوے والے معاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت
Qمعاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت کے ما بین کوئی ایک شق بھی مشترک نہیں تھی۔
سود کی تعریف: لغوی تعریف: سود کو عربی زبان میں ’’رِبًا‘‘ کہتے ہیں،یہ لفظ باب رَبٰییَرْبُوْ کا مصدر ہے، جس کے معانی زیادتی اور سود کے ہیں۔
اصطلاحاً اس کی دو اقسام ہیں: (۱) رِبَاالْفَضْل: خرید و فروخت میں ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادہ مقدار حاصل کرنا یا مقدار برابر ہونے کی صورت میں ایک طرف سے ادھار ہونا، اگلے باب میں سود کی اسی قسم کابیان ہے۔
آجکل صرافہ بازاروں میں سونے کی خرید و فروخت کے وقت سود کی اسی قسم کو اپنایا جاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ تقریباً تمام سنار سود خور ہیں الا ماشاء اللہ، اکثر یہ دیکھا کہ ایک طرف سے سونا نقد ہوتا ہے اور دوسری طرف سے ادھار اور اس کی مقدار میں بھی فرق ہوتا ہے،یہ سود کی واضح ترین قسم ہے، جو لوگ نقدی کے عوض سونا خریدتے ہیں، ان کو بھی اس معاملے میں ادھار پر خریدنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ہمارا روپیہ پیسہ بھی سونے اور چاندی کا عوض ہے، جبکہ سونے کے تاجر اپنے گاہکوں کو ادھار کی سہولت بھی دیتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں شادی کے موقع پر دولہا کے لیے نوٹوں کے جو ہار استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی خریداری بھی غور طلب معاملہ ہے، کیونکہ جس ہار میں (۵۰۰) روپے ہوتے ہیں، وہ تقریباً (۶۵۰، ۷۰۰) روپے میں فروخت ہوتا ہے، جبکہ اس پر نوٹوں کے علاوہ جوکچھ لگا ہوتا ہے، وہ قطعی طور پر اتنی زائد قیمت کا نہیں ہوتا، لہذا کہناپڑے گا کہ کم روپیوں کے بدلے زیادہ روپے وصول کیے جاتے ہیں اور یہ بھی سودی معاملہ ہے۔
(۲) رِبَا النَّسِیْئَۃ: ایک جیسی دو متبادل چیزوں میں سے کسی ایک کا زیادہ معاوضہ لینا، مگر ایک مقررہ مدت کے بعد۔ جیسے میمون نے قاسم کو بیس دنوں کے لیے ایک ہزار روپے ادھار دیے، شرعی قانون کے مطابق اتنی رقم ہی واپس لینی چاہیے، لیکن اس نے بیس دنوں کے عوض ایک ہزار سے زیادہ رقم وصول کی۔ بینک سے قرضہ لینے والے اور بینک میں رقم جمع کروانے والوں کا سود اسی قسم کا ہوتا ہے۔
جو لوگ اس قسم کے لین دین کو جائز سمجھتے ہیں، ان سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ شریعت میں جس سود کو حرام کو قرار دیا گیا ہے، اس کی تعریف کیا ہے اور آیا موجودہ دور میں اس کی کوئی شکل پائی جاتی ہے؟ یہ سود کا اجمالی تعارف ہے، اگلے ابواب میں مزید وضاحت کی جائے گی۔