حدیث نمبر: 5933
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلَقَّوُا الْبَيْعَ وَلَا تُصَرُّوا الْغَنَمَ وَالْإِبِلَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعِ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو (منڈی یا بازار میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر) نہ ملو اور نہ بکریوں اور اونٹنیوں کو بیچنے کے لیے ان کا دودھ روکو، پس جو شخص ایسا جانور خرید لے گا تو اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رہنے دے اور چاہے تو اس کو واپس کر دے، لیکن ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ واپس کرے، نہ کہ گندم کا۔
حدیث نمبر: 5934
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وہ اونٹنی یا بکری خرید لی، جس کادودھ روکا گیا ہو، تو اسے دو معاملے میں ایک کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو اپنی ملکیت میں رکھ لے یا واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ (صاع کے بقدر) برتن اناج کا بھی دے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … ’’اسے تین دنوں تک ایسا جانور واپس کر دینے کا اختیار ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 5935
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُتَلَقَّى جَلَبٌ وَلَا يَبِيعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً أَوْ نَاقَةً فَهُوَ بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ إِذَا هُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ قَالَ الْحَكَمُ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالِ تجارت لانے والے قافلے کو راستے میں نہ ملا جائے اور نہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے اور جو آدمی دودھ روکی ہوئی بکری یااونٹنی خرید لے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دومیں ایک اختیار ملے جائے گا، اگر وہ اس کو لوٹانا چاہے تو اناج یا کھجور کا ایک صاع بھی ساتھ لوٹائے گا۔
حدیث نمبر: 5936
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً وَرُبَّمَا قَالَ شَاةً مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّهَا وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، وہ (اگر چاہے تو) اسے واپس لوٹا دے، لیکن اس کے ساتھ ایک صاع بھی لوٹائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قافلوں کو راستے میں ملنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5937
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے فرمایا: دودھ روکے ہوئے جانوروں کی بیع کرنا دھوکہ ہے اور مسلمان کے لیے دھوکہ کرنا حلال نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا واضح ترین مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی دودھ روکا ہوا جانور خرید لیتا ہے تو اس کو تین ایام کے اندر اندر سودا واپس کرنے کا اختیار مل جاتا ہے، البتہ واپسی کی صورت میں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جانور کے ساتھ ساتھ کھجوروں کا ایک صاع مالک کو واپس کرے، یہ دراصل روکے ہوئے دودھ کا عوض ہے، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ احناف میں سے زفر نے جمہور سے اتفاق کیا ہے، البتہ وہ کھجور کے ایک صاع اور گندم کے نصف صاع میں اختیار دیتے ہیں۔ عام احناف نے اس عیب کی وجہ سے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار دیا ہے اور قیاس جلی کی روشنی میں اس حدیث میں بیان کیے گئے کھجوروں کے ایک صاع کو بھی تسلیم کرنے سے دوری اختیار کی ہے، اس مقصد کے لیے کبھی تو انھوں نے یہ کہہ دیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہیں ہے، اس لیے ان کی وہ روایت قابل قبول نہیں ہو گی، جو قیاس جلی کے خلاف ہو گی۔ ہماری گزارش یہ ہو گی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ احادیث کے حافظ تھے اور یہی صفت فقیہ کے شایان شان ہے، نیز اسی حدیث کو روایت کرنے والے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں کہ احناف جن کو فقہ اور اجتہاد کا امام سمجھتے ہیں؟ اس معاملے میں احناف کی سب سے بڑی غلطییہ ہے کہ وہ بعض واضح معاملات کی روشنی میں قانون بنا لیتے ہیں، پھر اس قانون کی روشنی میں مختلف حیلے بہانے تلاش کر کے شرعی نصوص کو ردّ کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی ایک مثال یہاں بیان کی گئی ہے۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ تمام قوانین و ضوابط شرعی نصوص کے تابع ہیں، قرآن و حدیث کو دیکھ کر قانون بنایا جائے گا اور آیات و احادیث کو دیکھ کر اس قانون میں سے مخصوص چیزوں کو مستثنی قرار دیا جائے گا، یہ قانون شریعت نے دیا ہے کہ چیز کو دیکھ کر اس کی قیمت طے کی جائے گی، لیکن روکے ہوئے دودھ کے عوض میں ایک صاع کھجوریں دے دینا،یہ بھی شرعی قانون ہے، اس لیے اس مخصوص مقام پر دوہے جانے والے پانچ دس کلو دودھ کی قیمت ادا نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف ایک صاع کھجوریں دی جائیں گی، ایک صاع کا وزن دو کلوسو گرام ہو تا ہے۔