حدیث نمبر: 5919
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک (تجارت فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے، جب تک جدانہ ہوں، اگردونوں نے تجارت میں سچائی سے کام لیا اور پوری وضاحت کردی تو ان کو اس تجارت کی برکت ملے گی اور اگر جھوٹ بولا اور (عیوب وغیرہ کو) چھپا لیا تو ان کی تجارت سے برکت اٹھا لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 5920
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دو آدمیوں کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار ہوتا ہے، جب تک جدا نہ ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 5921
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کو جدا ہونے تک سودا واپس کرنے کا اختیار ہوتا ہے، الا یہ کہ وہ اختیار والی تجارت ہو، یا ایک دوسرے سے کہے: تجھے اختیار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیع خیار (اختیار والی تجارت) کا مفہوم یہ ہے کہ بائع نے مشتری کو اختیار دیا ہو یا مشتری نے اختیار کی شرط لگائی ہو، ایسی صورت میں جدائی کے بعد بھی اختیار باقی رہے گا، جب تک مقررہ مدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5922
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دوآدمی آپس میں لین دین کریں تو ان میں سے ہر ایک کو جدا ہونے تک سودا واپس کرنے کا اختیار ہے، یا پھر ایک دوسرے کو اختیار دے اور وہ اختیار قبول کر لے اور پھر اس پر بیع کر لیں تو سودا پکا ہو جائے گا اور اگر وہ بیع کرنے کے بعد اس حال میں جدا ہوئے کہ کوئی بھی تجارت کو ترک کرنے والا نہ ہو تو پھر بھی سودا ثابت ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میںیہ اضافہ ہے: امام نافع نے کہا: جب سیدنا ابن عمرd کسی سے کوئی چیز خریدتے اور وہ ان کو پسند ا ٓجاتی تو وہ فروخت کنندہ سے جدا ہو جاتے (تاکہ اس کا واپسی کا اختیار ختم ہو جائے)۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5923
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فروخت کرنے والے اور خریدنے والے، دونوں کو جدا ہونے سے پہلے سودا واپس کرنے کا اختیار حاصل ہے، الا یہ کہ اختیار والا سودا ہو اور یہ حلال نہیں ہے کہ آدمی سودے کی واپسی کے ڈر سے جدائی اختیار کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اس چیز کو خلاف مروت قراردیاگیا ہے کہ جلدی سے تجارت کے بعد جگہ بدل لینا تاکہ ساتھی کوتجارت کی واپسی کا موقع نہ مل سکے، اسلامی معاشرت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5924
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید وفروخت کرنے والے دونوں افراد کو جدا ہونے سے پہلے سودا واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، یا پھر ان کی بیع اختیار والی ہو۔
حدیث نمبر: 5925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت کرنے والے دو آدمیوں کو رضامندی کے ساتھ جدا ہونا چاہئے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یٰاَیُّّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ} … ’’اے ایماندار و! اپنے مال آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ، مگر آپس میں رضامندی کی تجارت ہوتو جائز ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۹)
تجارتی لین دین کا انحصار دونوں فریقوں کی رضامندی پر ہے۔
تجارتی لین دین کا انحصار دونوں فریقوں کی رضامندی پر ہے۔