کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 5916
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَفِي لَفْظٍ مِنْ قُرَيْشٍ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ وَكَانَ فِي لِسَانِهِ لُوثَةٌ فَشَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْقَى مِنَ الْغَبْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُهُ يُبَايِعُ وَيَقُولُ لَا خِلَابَةَ يُلَجْلِجُ بِلِسَانِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری یا قریشی آدمی سودے میں دھوکہ کھاتا رہتا تھا، اس کی زبان میں اٹکن تھی، پس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہونے والے خسارے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ: دھوکہ نہ ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا اب بھی میں اس کو یہ اٹک اٹک کر بولتے ہوئے کہتے سن رہا ہوں کہ دھوکہ نہ ہو ۔
وضاحت:
فوائد: … اس آدمی کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب وہ کسی سے سودا کرے تو اسے یہ کہے کہ بھائی سودے میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اندازہ کر لیں گے کہ یہ ضعیف رائے والا آدمی ہے، اس لیے وہ اس پر رحم کریں گے، جبکہ وہ رحم و کرم والا زمانہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الشروط فى البيع / حدیث: 5916
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:2117، 2407، 6964 ، ومسلم: 1533 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6134»
حدیث نمبر: 5917
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكِ الْبَيْعِ فَقُلْ هُوَ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا خِلَابَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں کچھ کمزور تھی، اس لیے اس کے گھروالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! آپ اس آدمی پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ سودے کرتا ہے اور اس کے عقل میں کمزوری ہے (اس طرح نقصان اٹھا بیٹھتا ہے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور تجارت کرنے سے منع کر دیا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اِس لین دین کو نہیں چھوڑ سکتا تو سودا کرتے وقت کہا کر: لیجئے جناب اور دیجئے، لیکن دھوکہ نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس صورت میں جب دھوکہ ہوجائے گا توتین دن تک واپسی کا اختیار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الشروط فى البيع / حدیث: 5917
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3501، وابن ماجه: 2354، والترمذي: 1250، والنسائي: 7/ 252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13309»
حدیث نمبر: 5918
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ قَالَ فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ قَالَ كَيْفَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد ایک قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب وہ آئے توعبداللہ کو تیس ہزار اورچاندی کے برتنوں کے درمیان اختیار دیاگیا، انہوں نے برتن کو اختیار کیا، پھر جب (بحرین کے علاقے) دارِ ین سے تا جر آئے تو عبداللہ نے ان کو اس چاندی کے دس برتن، تیرہ برتنوں کے عوض فروخت کر دیئے، پھر جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملے تو کہا: کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے ان کو کیسے دھوکہ دیا ہے؟ انھوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ پھر اس نے ساری تفصیل بتائی،یہ سن کر سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ پر عزم کرتا ہوں یا تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو یہ سودا واپس کر دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس قسم کی تجارت سے منع کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ایسے ہوتا ہے کہ یہ چاندی کے عوض چاندی کی بیع تھی، جس میں ایک طرف سے زیادہ مقدار وصول کی گئی تھی، اس تفصیل کی بنیاد سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں انھوں نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابربرابر فروخت کرنے کی شرط کی بات نقل کی ہے، یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الشروط فى البيع / حدیث: 5918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20798»