کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 5352
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر صرف اس چیز میں ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کیا جائے اور قطع رحمی میں کوئی قسم نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی قطع رحمی کے لیے اٹھائی ہوئی قسم کو پورا نہیں کیا جائے گا۔ آدمی قسم اور نذر کے ذریعے ایسی چیز کو اپنے حق میں فرض کرے، جس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہو، مثلا نماز پڑھنا، ذکر کرنا، روزے رکھنا اور صدقہ کرنا، وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه أبوداود: 3273 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6732»
حدیث نمبر: 5353
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں کوئی نذر نہیں، ابن آدم کے لیے اس کی کوئی آزادی نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس میں اس کی کوئی طلاق نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی قسم نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی ایسی قسم کو پورا کرنا لازمی نہیں ہو گا، البتہ جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق اس کو کفارۂ قسم ادا کرنا پڑے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2190، والنسائي: 7/288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6780»