کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
حدیث نمبر: 5329
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُدّعِی سے گواہی کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُدّعیٰ علیہ سے قسم اٹھوائی اور اس نے اس اللہ کی قسم اٹھا دی، جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم تو تو نے جھوٹی اٹھائی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تجھے اس لیے معاف کر دیا ہے کہ تو نے اخلاص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3275 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2280»
حدیث نمبر: 5330
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَوَقَعَتِ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، فیصلہ میں ایک آدمی کو قسم اٹھانا پڑ گئی، اس نے اس اللہ کی قسم اٹھائی کہ جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے کہ اس آدمی کی اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: یہ آدمی جھوٹا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو اس کا حق ادا کرے اور اس کی قسم کا کفارہ اس کی یہ معرفت یا شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ بسااوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کی روشنی میں بھی فیصلہ کر لیا کرتے تھے۔ جھوٹی قسم کبیرہ گنا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا یہ کبیرہ گناہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی معرفت کی برکت کی وجہ سے معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2695»
حدیث نمبر: 5331
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5331
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه ما بين ثابت البناني وبين ابن عمر، أخرجه ابويعلي: 5690، والبيھقي: 10/37، والبزار: 3068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5361»