کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5320
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ} [آل عمران: 77]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے قسم اٹھائی وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میںملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ … … لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5320
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7445، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3576»
حدیث نمبر: 5321
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … یَمِیْنُ الصَّبْر: اس جھوٹی قسم کو کہتے ہیں، جو آدمی جان بوجھ کر اٹھاتا ہے اور اس کا ارادہ مسلمان کا مال ہتھیا لینا ہوتا ہے۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس قسم پر پابند کرتا ہے یا حاکم، قاضی کے پاس اسے روکا جاتا ہے کیونکہ صبر کا اصل معنی روکنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5321
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22185»
حدیث نمبر: 5322
عَنِ ابْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ يُقَالُ لَهُ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ فَقَضَى عَلَى الْحَضْرَمِيِّ بِالْبَيِّنَةِ فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ وَاللَّهِ أَوْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَرْضِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ رَجَاءٌ وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ مَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ فَاشْهَدْ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا لَهُ كُلَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کندہ کے ایک آدمی امرؤ القیس بن عابس کی حضرموت کے ایک باشندے سے کسی زمین کے بارے میں لڑائی ہو گئی، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ حضرمی گواہی پیش کرے، لیکن اس کے پاس گواہی نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امرؤ القیس کے بارے میں فیصلہ دیا کہ وہ قسم اٹھائے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ نے اس سے قسم لینے کا مطالبہ کیا تو یہ زمین تو چلی جائے گی، جبکہ کعبہ کے ربّ کی قسم ہے کہ یہ میری زمین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے بھائی کا مال ہتھیا لینے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے میں ہو گا۔ رجاء راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} … بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔ امرء القیس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے اس زمین کو چھوڑ دیا، اس کے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت ہو گی۔ اس نے کہا: تو پھر آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے یہ ساری زمین اس کے لیے چھوڑ دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5322
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 5995، والدارقطني: 4/ 166، والبيھقي: 10/ 254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17868»
حدیث نمبر: 5323
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5323
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/3، والبزار: 1359، وابويعلي: 7274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19743»
حدیث نمبر: 5324
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مُنْفِقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْكَسْبِ وَفِي لَفْظٍ لِلْبَرَكَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم، مال کو تو بیچنے والی ہوتی ہے، لیکن کمائی کی برکت کو مٹا دیتی ہے۔ ‘
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی سودا کرتے وقت کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اسے اس سودے سے کمائی ہوئی دولت کے بارے میں کیا امید ہونی چاہیے؟ اس کا فیصلہ ہر ذی شعور کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2087، ومسلم: 1606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7206»
حدیث نمبر: 5325
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مَصْبُورَةٍ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے حاکم کی عدالت میں جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اپنے چہرے کے لیے آگ سے ٹھکانہ تیار کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5325
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 3242 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20154»
حدیث نمبر: 5326
عَنِ ابْنِ سَوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ الَّتِي يَقْتَطِعُ بِهَا الرَّجُلُ مَالَ الْمُسْلِمِ تَعْقِمُ الرَّحِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن سود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی جس جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کے مال کو ہتھیا لیتا ہے، وہ صلہ رحمی اور لوگوں کے ما بین نیکی کو کاٹ دیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5326
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھا الرجل الذي روي عنه معمر، أخرجه الطبراني في الكبير :22/ 950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21027»
حدیث نمبر: 5327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مر د و زن میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، اگرچہ وہ تر مسواک پر قسم اٹھا رہا ہو، اس کے لیے آگ واجب ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … زیادہ حرمت کو ثابت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کو مخصوص کیا گیا ہے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ شرف والی جگہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِی وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِی عَلٰی حَوْضِی۔)) … میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر تو میرے حوض پر ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۷۳۳۵، صحیح مسلم: ۳۱۹۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5327
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 2326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8344»
حدیث نمبر: 5328
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى مِنْبَرِي كَاذِبًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے آپ کو کسی مسلمان کے حق کا حقدار ثابت کرنے کے لیے میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه أبوداود: 3246، وابن ماجه: 2325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14762»