کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لات اور عزی کی قسم اٹھانے والے کا اور اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ، جوا کھیلیں
حدیث نمبر: 5302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور اس نے اپنی قسم میں کہا: لات کی قسم ہے، تو وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ جوا کھیلیں تو وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8073»
حدیث نمبر: 5303
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابِي قَدْ قُلْتَ هُجْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ قَرِيبًا وَإِنِّي حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا وَتَعَوَّذْ وَلَا تَعُدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے لات اور عزی کی قسم اٹھا لی، میرے ساتھیوں نے مجھے کہا: تم نے قبیح کلام بولا ہے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہمارا دورِ جاہلیت قریب قریب ہے اور میں نے لات و عزی کی قسم اٹھا لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تین بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ کہو، پھر تین بار اپنی بائیں طرف تھوکو اور پناہ طلب کرو اور دوبارہ ایسی قسم نہ اٹھاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … عربوں کی زبانوں پر کچھ کلمات بلا قصد جاری ہو جاتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایسے ہو جاتا ہے کہ ممنوعہ کلمات ان کی زبان پر آ جاتے تھے، لات و عزی کی قسموں کاتعلق بھی ان ہی کلمات سے ہے، یا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہالت یا بھول کر لات و عزی کی قسم کھالے، وگرنہ جو آدمی جان بوجھ کر تعظیماً لات وغیرہ کی قسم کھاتا ہے، وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کسی کا اختلاف نہیں، وہ خارج از اسلام ہو گا،دیکھیں حدیث نمبر (۵۲۹۲) والے باب کی احادیث اور ان کے فوائد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 7/7 ، وابن ماجه: 2097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1590»