کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آزاد شدہ کی ولاء کا بیان، نیز وہ کس شخص کے لیے ہو گی
حدیث نمبر: 5289
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَلْيَكُنْ لَنَا وَلَاؤُكِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی، وہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مجھ سے مدد چاہ رہی تھیں اور ابھی تک انھوں نے کوئی ادائیگی نہیں کی تھی، میں نے ان سے کہا: تم اپنے مالکوں کی طرف لوٹ جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تیری مکاتبت کی رقم ادا کردوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں، وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ساری تفصیل بتائی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) ثواب کی نیت سے تیری رقم ادا کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے، ولاء بہرحال ہمارے لیے ہی ہو گی، جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء صرف آزاد کرنے والا کا حق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگانے لگ گئے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو، تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا، اگرچہ وہ سو شرطیں لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کی کتابت کا سارا مال وہ ادا کر دیتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ولاء ان کی ہو گی، لیکن اس مفہوم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدہ کا ولاء کا شرط لگانا درست نہیں ہے، کیونکہ مکاتَب کی ولاء اس کے پہلے والے مالکوں کی ہی ہوتی ہے، نہ کہ مکاتبت میں اس کا تعاون کرنے والوں کی۔ لیکن اس روایت کے درج ذیل الفاظ سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اِنْ اَحَبَّ اَہْلُکِ اِنْ اَعُدَّھَا لَھُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَاُعْتِقَکِ وَیَکُوْنُ وَلَاؤُکِ لِیْ، فَعَلْتُ۔ (بخاری: ۲۵۶۳) اگر تیرے مالک پسند کرتے ہیں کہ میں ان کے لیے ساری قیمت اکٹھی تیار کر لوں اور پھر تجھے آزاد کر دوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر دیتی ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2561، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25027»
حدیث نمبر: 5290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، جبکہ وہ مکاتَب تھیں، سیدہ نے ان سے کہا: کیا تیرے مالک تجھے فروخت کر دیں گے؟ وہ اپنے مالکوںکے پاس گئی اور ان کو یہ بات بتلائی، انھوں نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے، ہاں اگر وہ ہمارے لیے ولاء کی شرط لگا لیں تو ٹھیک ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو صرف آزاد کنندہ کی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 2565، 2726، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24554»
حدیث نمبر: 5291
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَبَى أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ وَلَاؤُهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے اس کو بیچنے سے انکار کر دیا، الا یہ کہ ولاء کا حق ان کو دیا جائے، جب سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کا حق ہے، جو قیمت ادا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2156، 6759، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4855»