حدیث نمبر: 5280
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیوں پر مکاتَبت کی گئی ہو اور اس نے دس اوقیوں کے علاوہ ساری قیمت ادا کر دی ہوتو وہ غلام ہی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مالک اور غلام کا آپس میں یہ معاہدہ کہ غلام اس قدر رقم ادا کر کے آزاد ہو جائے گا، مکاتَبَت کہلاتا ہے اور ایسے غلام کو اس معاہدے کے دوران مُکاتَب کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5281
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیوں پر مکاتَبت کی ہو اور اس نے ساری قیمت ادا کر دی ہو، ما سوائے دس اوقیوں کے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام نے سو دیناروں پر مکاتَبت کی ہو اور اس نے سارے دینار ادا کر دیئے ہوں، ما سوائے دس دینار وں کے، تو وہ غلام ہی رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بلکہ ابو داود کی روایت میں ایک درہم کا بھی ذکر ہے، یعنی اگر مکاتَب پر اس کی کتابت کا ایک درہم بھی باقی ہو تو وہ غلام ہی ہو گا۔
حدیث نمبر: 5282
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی خاتون کامکاتَب غلام ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو، جو وہ اپنی قیمت میں اد اکر سکتا ہو تو اس خاتون کوچاہیے کہ وہ اس غلام سے پردہ کرے۔
حدیث نمبر: 5283
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُكَاتَبُ يُوَدَّى مَا أَعْتَقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ وَمَا رَقَّ مِنْهُ بِحِسَابِ الْعَبْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتَب جتنا آزاد ہو چکا ہو گا، اس کے مطابق اس کو آزاد کی دیت دی جائے گی اور جتنا حصہ غلام ہو گا، اس کے مطابق اس کو غلام کی دیت دی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی مکاتَب کو قتل کر دیتا ہے تو دیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، آزادی کاحصہ علیحدہ ہو گا اور غلامی کاالگ۔
حدیث نمبر: 5284
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوَدَّى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتَب جتنی ادائیگی کر چکا ہو، اس کے حساب سے اس کو دیت دی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … کیا مکاتبت کے بعد مکاتَب غلام بیچا جا سکتا ہے؟ ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک معاہدہ ہے، جسے توڑا نہیں جا سکتا، الا یہ کہ وہ غلام راضی ہو، جسے اس معاہدے کا مفاد ہے اور واضح بات ہے کہ وہ تبھی راضی ہو گا، اگر اسے فوری آزادی کا یقین دلا دیا جائے، ایسی صورت میں جب معاہدے سے بڑھ کر غلام کو مفاد حاصل ہو رہا ہو اور دونوں فریق راضی ہوں تو اسے فوری آزادی کے لیے بیچنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۵۲۸۹) میں ذکر ہے، ہاں مالکان اپنے مفاد کی خاطر اس کی مرضی کے بغیر اسے کسی دوسرے کو نہیں بیچ سکتے، کیونکہ یہ غدر اور وعدہ خلافی ہے، جس میں حکومت مداخلت کر سکتی ہے، جیسا کہ اسی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالکان کی شرط کو مردود قرار دیا۔