کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا¤مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5261
عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقید ِ حیات رہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت میں یہ بات زائد بھی ہے، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِی عَلَیَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِی وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ۔ اگر تم مجھ پریہ شرط نہ لگاؤ، تب بھی جب تک میں زندہ رہوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیںہوں گا، پھر انھوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہ شرط بھی لگائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3932، وابن ماجه: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22272»
حدیث نمبر: 5262
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 4949،والترمذي: 1365، وابن ماجه: 2524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20429»
حدیث نمبر: 5262M
عَنْهُ بِالسَّنَدِ الْأَوَّلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی آدمی مَحرم رشتہ دار کو بطورِ غلام خرید لیتا ہے تو وہ ایسا رشتہ دار خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5262M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20467»
حدیث نمبر: 5263
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … آزاد کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کی آزاد ی کا سبب بنے، کیونکہ جب ایسے باپ کو خریدا جائے گا تو خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7143»
حدیث نمبر: 5264
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں آدمی پر کوئی طلاق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس چیز میں کوئی آزادی نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی سودا نہیں ہے، جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه أبوداود: 2190،والترمذي: 1181، وابن ماجه: 2047، والنسائي: 7/288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6769»