کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور¤اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 5248
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا قَالَ كَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالک کا حق ادا کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہ ایسے غلام پر حساب ہے اور نہ قلیل المال مومن پر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2549، ومسلم: 1666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7422»
حدیث نمبر: 5249
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ الْمَمْلُوكِ أَجْرَانِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُصْلِح غلام کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور ماں کے ساتھ حسن سلوک جیسی نیکیاں نہ ہوتیں تو میں پسند کرتا کہ جب مجھے موت آئے تو میری حالت یہ ہو کہ میں غلام ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … مُصلِح غلام سے مراد وہ ہے جو اپنے آقا کا خیرخواہ ہو اور اپنے ربّ کی عبادت کا اہتمام کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2548، ومسلم: 1665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8354»
حدیث نمبر: 5250
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ كَانَ لِي أَجْرَانِ فَذَهَبَ أَحَدُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ اور اپنے مالک دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگ گئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز ان کو رُلا رہی ہے تو انھوں نے کہا: میرے لیے دو اجر تھے، ان میں سے ایک ختم ہو گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمانِ عالیشان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غلام کا مرتبہ آزاد سے زیادہ ہے، کیونکہ آزادی بہت سی خصوصیات اور امتیازات پر مشتمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 6427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8518»
حدیث نمبر: 5251
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہے اور اپنے مالک کی خیرخواہی بھی کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2550، ومسلم: 1664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4673»
حدیث نمبر: 5252
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو اچھی تعلیم دے اور اچھے آداب سکھائے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے، اس کے لیے دو اجر ہو ں گے، وہ غلام جو اللہ تعالیٰ اور اپنے مالکوں کے حقوق ادا کرے، اس کے لیے دو اجر ہیں اور وہ اہل کتاب آدمی جو پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2547، ومسلم: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19761»
حدیث نمبر: 5253
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَبِطَاعَةِ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ وَنِعِمَّا لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنی بہترین چیز ہے اس غلام کے لیے، جس کو اللہ تعالیٰ اس حال میں فوت کرتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت اور اپنے مالک کی اطاعت اچھے انداز میں کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہترین چیز ہے، بلکہ بہت ہی بہترین ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7642»
حدیث نمبر: 5254
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ مَا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى يَحْسُنُ عِبَادَةَ اللَّهِ وَصَحَابَةَ سَيِّدِهِ نِعْمًا لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے یہ بہترین چیز ہے کہ اس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کر رہا ہو اور اپنے مالک کا ساتھ بھی اچھے انداز میں نبھا رہا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں غلاموں اور لونڈیوں کا وجود ختم ہو چکا ہے، شریعت میں ان کے لیے ہدایات اور حقوق باقی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5254
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8216»