کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5222
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خَبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ باز، بخیل، احسان جتلانے والا اور غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا وہ غلام ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5223
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا قَالَ بَلَى فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ قَالُوا فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ امت سب سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن اپنی اولاد کی طرح ان کی عزت کرو اور جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلاؤ۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز ہمیں دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمدہ گھوڑا ہو، جس کو تو نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے باندھا ہوا ہو اور ایک غلام ہو، جو تیری ضروریات کو پورا کرے، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہو، تو پھر تو تیرا بھائی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی نماز کی وجہ سے اس کی عزت بھی کرنا پڑے گی، کیونکہ اب وہ صرف بندے کا غلام نہیں رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والا بن گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5224
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيَبْدَأْ بِهِ فَلْيُطْعِمْهُ أَوْ لِيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے اور وہ کھانے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی کھلائے یا اس کو اپنے پاس بٹھا دے، کیونکہ اس کی گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5225
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامًا فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبُرْدَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا تیار کرے تو وہی ہے، جو اس کے لیے گرمی اور سردی برداشت کرتا ہے، اس لیے مخدوم کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور اگر وہ اس طرح نہ کرے تو اس کے ہاتھ میں لقمہ پکڑا دے۔
حدیث نمبر: 5226
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اگر کھانا تھوڑا ہو تو خادم کے ہاتھ میں ایک دو لقمے رکھ دے۔
حدیث نمبر: 5227
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمُشَقَّةَ وَالْحَرَّ فَقَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوهُ فَإِنْ كَرِهَ أَحَدُنَا أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس خادم کے بارے میں سوال کیا، جو مالک کو محنت اور گرمی سے کفایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بلائیں، اگر وہ اپنے ساتھ کھانا کھلانے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ دے دے۔
حدیث نمبر: 5228
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے کھانااور لباس بذمہ مالک ہو گا اور اس کو اتنے کام کی تکلیف نہیں دی جائے گی، جس کی اس کو طاقت نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 5229
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ فَإِنْ جَاءُوا بِذَنْبٍ لَا تُرِيدُونَ أَنْ تَغْفِرُوهُ فَبِيعُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَذِّبُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلایا کرو، جو کچھ خود پہنتے ہو، ان کو بھی اسی میں سے پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر گزریں، جو تم نہ بخشنا چاہو، تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔
حدیث نمبر: 5230
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ قِنْيَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ وَلْيَكْسُهُ مِنْ لِبَاسِهِ وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، پس جس کا بھائی اس کی ملکیت میں ہو تو وہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھلائے اور اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اس کو ایسے کام کا مکلَّف نہ ٹھہرائے جو اس کو مغلوب کر دے، اگر وہ اس کو مغلوب کر دینے والے کام کی تکلیف دے دے تو پھر وہ اس کی معاونت کرے۔
حدیث نمبر: 5231
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ أَوْ قَالَ تَكْتَسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ فَبِيعُوهُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے جو خادم تمہاری طبع کے موافق ہوں تو جو کچھ خود کھاتے ہو، اس میں سے ان کو بھی کھلایا کرو اور جو کچھ خود پہنتے ہو، اس میں سے ان کو بھی پہنایا کرو، اور جو خادم تمہاری طبیعت کے موافق نہ ہو تو اس کو بیچ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب نہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 5232
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَاتِي وَغُلَامِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی غلام سے اس طرح نہ کہے: تو اپنے رب کو پانی پلا، تو اپنے رب کو کھانا کھلا، تو اپنے رب کو وضو کروا۔ اور کوئی غلام اس طرح نہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ یوں کہے: میرا سردار اور میرا مولا، اسی طرح کوئی مالک اس طرح نہ کہے: عَبْدِیْ، اَمَتِیْ، بلکہ وہ کہے: میرا جوان، میرا غلام۔
حدیث نمبر: 5233
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مالک یوں نہ کہے: عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ، کیونکہ تم سارے اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں۔ مالک کو یوں کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمارا ربّ ہے اور ہم اس کے بندے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان احادیث میں یہ بتانا چاہا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص رہنے دیے جائیں، اس لیے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے مالک کو رَبِّی نہ کہے اور کوئی مالک اپنے غلام اور لونڈی کو عَبْدِیْ اور أَمَتِیْ نہ کہے۔
حدیث نمبر: 5234
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ وَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ لَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ قَالَ خِرْ لِي قَالَ خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامًا وَقَالَ اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے عدل و انصاف اور اخوت و مساوات پر حد درجہ زور دیا ہے اور احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا ہے۔ اگر ظاہری حقوق کا اعتبار کریں تو غلام معاشرے کے سب سے کم مرتبے والے لوگ ہیں، لیکن اسلام نے ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی وضاحت کر دی کہ یہ سلوک اس طرح کیا جائے کہ مالکان جو خود کھائیں اور پہنیں، وہی اپنے غلاموں کو کھلائیں اور پہنائیں، ان کے معاملے میں عفو و درگذر کے پہلو کو وسیع رکھیں اور ان کی مجبوری و ماتحتی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، کیونکہ وہ دین اور انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کے بھائی ہیں۔