کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5207
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں): عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ بعض احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہ ے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے علاوہ بھی افضل ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3965، والترمذي: 1638، والنسائي: 6/ 26 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17147»
حدیث نمبر: 5208
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا، تو اس عمل سے اس کی آ گ سے آزادی ہو گی، آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5208
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17145»
حدیث نمبر: 5209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لِغُلَامٍ لَهُ أَفْرَهَ غِلْمَانَهُ ادْعُ لِي مُطَرِّفًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن گردن کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا، یعنی وہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ کو، ٹانگ کے ٹانگ کو اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ سعید نے کہا: جی ہاں، پس علی بن حسین نے اپنے سب سے زیادہ چست غلام سے کہا: مطرف کو بلاؤ، جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو انھوں نے کہا: تو چلا جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5209
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 6715، ومسلم: 1509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9455»
حدیث نمبر: 5210
عَنِ الْغَرِيفِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ فَقَالَ أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عریف دیلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: ہم ایک ایسے آدمی کا مسئلہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جو ایک گناہ کی وجہ سے جہنم کو اپنے حق میں واجب کر چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس آزاد شدہ کے ہر عضو کی وجہ سے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16108»
حدیث نمبر: 5211
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً يُفْدِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند): اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ یہ ایک گردن آزاد کر دے، اللہ تعالیٰ اس گردن کے ہر عضو کو آگ سے اس کے ہر عضو کا فدیہ بنا دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5211
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17110»
حدیث نمبر: 5212
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْتَقْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعِينَ مُحَرَّرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَبَقَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خیر کے جو امور سر انجام دے چکے تھے، ان سمیت اسلام لائے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 2538، ومسلم: 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15660»
حدیث نمبر: 5213
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوا ب دیا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مالکوں کے نزدیک قیمتی اور مہنگی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی سکت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: تو کسی پریشان حال کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2518، ومسلم: 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21657»
حدیث نمبر: 5214
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَّا أَنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اس کی آزادی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر دے، لیکن اگر تونے یہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دی ہوتی تو یہ عمل تیرے لیے بہت بڑے اجر کا باعث ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ماموؤں کو لونڈی کی ضرورت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2592، ومسلم: 999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27354»
حدیث نمبر: 5215
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَعْتِقْ سَعْدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي السَّبْيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی آتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے علاوہ ہمارا کوئی خادم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، تمہارے پاس کئی بندے آئیں گے۔ امام ابو داودد طیالسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قیدی تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5215
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي عمر الخزاز، وعنعنة الحسن، أخرجه ابويعلي: 1573،والحاكم: 2/ 213 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1717»
حدیث نمبر: 5216
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مومن گردن کو آزاد کیا، تو یہ جہنم سے اس کا فدیہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22464»
حدیث نمبر: 5217
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ قَالَ عَفَّانُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن آزاد کی، تو یہ آگ سے اس کا فدیہ بنے گی، عفان راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی جہنم سے آزاد ہو جائے گی، اور جس نے اپنے والدین میں ایک کو پایا اور پھر (اس کی خدمت کر کے) اپنے آپ کو بخشوا نہ سکا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے، اور جس نے مسلمان والدین کا یتیم بچہ کھانے اور پینے کے معاملات میں اپنے ساتھ ملا لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو غنی کر دیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 19/666، والبيھقي في الشعب : 11031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19239»
حدیث نمبر: 5218
عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان میں سے ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنی تھی اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنا افضل عمل ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کی رہنمائی کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26798»
حدیث نمبر: 5219
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا السَّبَّابَةِ فَقَالَ لَهَا مَنْ أَنَا فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَعْتِقْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5219
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد، أخرجه ابوداود: 3284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7893»
حدیث نمبر: 5220
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت کے وقت آزاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جو سیر ہونے کے بعد تحفہ دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ موت کے وقت ایک تہائی مال تک صدقہ یا وصیت کرنا جائز ہے، مگر افضل یہ ہے کہ صدقہ اس وقت کیا جائے جب آدمی صحت مند اور حریص ہو، غِنٰی کا خواہش مند ہو اور فقر سے ڈرتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3968، والترمذي: 2123، والنسائي: 6/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28083»
حدیث نمبر: 5221
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا قَالَ لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا ، جو کہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زنا کے بچے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہے، مجھے دو جوتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا بچہ آزاد کروں۔
وضاحت:
فوائد: … ایسا بچہ شریعت میں قصور وار نہیں ہے اور وہ دنیا و آخرت میں بلند سے بلند مقام حاصل کر سکتا ہے، لیکن عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ گھٹیا مزاج لوگوں کی اولاد اور اس قسم کے بچے معاشرے کے ناکارہ افراد ہی ثابت ہوتے ہیں۔ دیکھیں کہ جب عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی معجزاتی طور پر ولادت ہوئی اور لوگوں نے دیکھا کہ مریم رضی اللہ عنہا شادی کے بغیر بچہ جنم دے کر آ گئی ہیں تو انھوں نے کہا: {یٰٓاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا} … اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی (تو یہ کیا کر کے آ گئی ہے)۔ (مریم:۲۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5221
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو يزيد الضبي مجھول، أخرجه ابن ماجه: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28176»