حدیث نمبر: 5205
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کی بہترین تعداد تیس ہے، ان میں سے عمدہ اونٹ کی سواری کی جاتی ہے، اس کا ڈول عاریۃً دیا جاتا ہے، دودھ والی اونٹنی بطور عطیہ دی جاتی ہے اور پانی پینے کے دن جب وہ اپنے باڑوں میں جمع ہوتے ہیں تو ان کو دوہ کر (محتاجوں کو) دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اونٹوںکی یہ معتدل تعداد ہے، اگر کسی کے پاس اس سے زیادہ اونٹ ہوں اور وہ ان کے یہی حقوق ادا کرتا ہو تو وہ اس کیلئے بہتر ہوں گے، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ مال کی وجہ سے لوگ اسلامی فرائض و واجبات وحدود سے غافل ہو جاتے ہیں، ان کے مزاج تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان میں بڑائی اور بخل جیسی مذموم صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5206
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ قَالَ إِسْمَاعِيلُ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مِيَاهِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قاصد بھیجا، وہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ اونٹ کی گردن میں کوئی قلادہ ہر گز باقی نہ چھوڑا جائے، وہ تانت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ اسماعیل راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اس وقت لوگ پانیوں پر تھے۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۳۲)
وضاحت:
فوائد: … یہ قلادے اونٹوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لیے لٹکائے جاتے تھے یا ان کے ساتھ گھنٹیاں باندھی جاتی تھیں، جبکہ یہ دونوں کام غلط ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلادے لٹکانے سے منع کر دیا، نیز یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چرتے چرتے اونٹ کا قلادہ کسی درخت کے ساتھ پھنس جائے۔