کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان
حدیث نمبر: 5201
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِي يُرْبَطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَفُهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُقَامَرُ أَوْ يُرَاهَنُ عَلَيْهِ وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا فَهِيَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک گھوڑا رحمن کیلئے ہوتا ہے، ایک انسان کیلئے اور ایک شیطان کیلئے ہوتا ہے، رحمن والا گھوڑا وہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے کیلئے باندھا جاتا ہے، پس اس کا چارہ بلکہ لید اور پیشاب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بہت سی چیزیں ذکر کیں، سب چیزوں میں اجر ہے۔ شیطانی گھوڑا وہ ہے، جس پر جوا کھیلا جاتا ہے اور (جاہلیت کے طریقوں کے مطابق) بازیاں لگائی جاتی ہیں اور انسانی گھوڑا وہ ہے، جس کو انسان اس مقصد کیلئے باندھتا ہے کہ اس کے بچے پیدا ہوں اور حاجت پر پردہ پڑا رہے (یعنی اس کے ذریعے گھر کی ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں)۔
حدیث نمبر: 5202
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ گھوڑا ہے کہ جس کو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے باندھ کر رکھتا ہے، اس کی قیمت بھی اجر ہے ، اس کی سواری بھی اجر ہے، اس کا عاریۃً دینا بھی اجر ہے اور اس کا چارہ بھی اجر ہے ، دوسرا وہ گھوڑا ہے، جس پر جوا اور (جاہلیت کی) بازیاں لگائی جاتی ہیں، ایسے گھوڑے کی قیمت بھی گناہ ہے اور اس کا چارہ بھی مالک کے لیے بوجھ ہے، تیسرا وہ گھوڑا ہے، جس کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ بچے جنم دے گا، ممکن ہے کہ اس قسم کی وجہ سے مالک کی فقیری دور ہو جائے۔