کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5197
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ قَالَ وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ قَالَ تَمِيمٌ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يَعْلِفُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شرحبیل بن مسلم خولانی کہتے ہیں: روح بن زنباع، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو ملنے کے لیے آئے اور ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے جَو صاف کر رہے تھے اور ان کے بیوی بچے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، روح نے کہا: کیا ان افراد میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جو تمہیں اس کام سے کفایت کرے، سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان آدمی نے اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر کے اس کو کھلاتا ہے تو اس کے لیے ہر ہر دانے کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5197
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناد حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 1254، والبيھقي في الشعب : 4273 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17080»
حدیث نمبر: 5198
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ، سیدنا سہیل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ کی راہ والے گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جس نے صدقہ کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو پھیلا رکھا ہو اور وہ ان کو بند کرنے والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17768»
حدیث نمبر: 5199
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضْمِرُ الْخَيْلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑوں کی تضمیر کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه بنحوه ابوداود: 2576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5588»
حدیث نمبر: 5200
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَزِّ أَعْرَافِ الْخَيْلِ وَنَتْفِ أَذْنَابِهَا وَجَزِّ نَوَاصِيهَا وَقَالَ أَمَّا أَذْنَابُهَا فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا وَأَمَّا أَعْرَافُهَا فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا وَأَمَّا نَوَاصِيهَا فَإِنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ فِيهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ بِهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5200
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه أبوداود: 2542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17790»