کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گھوڑوں کی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی¤ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5192
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ أَطْرِقْنِي مِنْ فَرَسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّتْ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عامر ہوزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: مجھے جفتی کے لیے اپنا گھوڑا دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے جفتی کے لیے کسی کو گھوڑا دیا اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوا تو اس کے لیے ایسے ستر گھوڑوں کا ثواب ہو گا، جو اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیئے جائیں۔
حدیث نمبر: 5193
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ قُلْتُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ قَالَ يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا قُلْتُ أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ قَالَ لَا إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر کا نر یا مادہ بطور تحفہ دیا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خچر نسل کا نر یا مادہ ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گدھے سے گھوڑی کی جفتی کرائی جاتی ہے تو ان سے یہ پیدا ہوتا ہے، میں نے کہا: تو پھر کیا ہم فلاں گدھے سے فلاں گھوڑی کی جفتی نہ کروائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ ایسا کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی جن کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ حکمت و دانائی کے مطابق زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب چیز کون سی ہے، گھوڑا بہرحال خچر سے اعلی جانور ہے، اس کے ذریعے جہاد کیا جاتا ہے، غنیمتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ حلال جانور ہے، جب ان میں سے کوئی صفت بھی خچر میں نہیں پائی جاتی، نیز اگر خچر پیدا کرنے کی عام اجازت دے دی جائے تو گھوڑوں کی قلت ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 5194
عَنْ دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَحْمِلُ لَكَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ فَيُنْتِجَ لَكَ بَغْلًا فَتَرْكَبُهَا قَالَ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے گدھے سے گھوڑی کی جفتی نہ کرواؤں، تاکہ خچر پیدا ہو اور آپ اس پر سواری کریں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ یہ کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
حدیث نمبر: 5195
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم گھوڑی کی جفتی گدھے سے کروائیں۔
وضاحت:
فوائد: … گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے، ان احادیث میں اس ملاپ کو ناپسند کیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں گھوڑے اور گدھے کے ساتھ خچر کا ذکر بھی بطورِ احسان کیا گیا ہے، جس سے خچر کے وجود اور اس کے بطور نسل باقی رہنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس لیے علماء نے ان احادیث میں ممانعت یا ناپسندیدگی کے حکم کو تنزیہی قرار دیا ہے، یا اسے اس صورت پر محمول قرار دیاجائے گا، جب اس کی وجہ سے گھوڑوں کی نسل اور اس کی افزائش متأثر ہو، کیونکہ گھوڑا خچر سے زیادہ مفید اور ضروری ہے، اس کی نسل میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 5196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْخَيْلِ وَالْبَهَائِمِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِيهَا نِمَاءُ الْخَلْقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں اور دوسرے چوپائیوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خصی نہ کرنے سے نسل بڑھتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر جانوروں کو ان کی فطرت پر باقی رکھا جائے اور ان کو خصی نہ کیا جائے تو اس سے ان کی نسل بھی بڑھتی ہے اور جفتی کے لیے دینے کا اجر و ثواب بھی ملتاہے۔