حدیث نمبر: 5187
عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عیسیٰ بن علی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک گھوڑے کی برکت سرخ گھوڑوں میں ہے۔
حدیث نمبر: 5188
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور قبیح نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو سرحدی حفاظت کے لیے تیار رکھو، ان کی پیشانی اور سرین کو چھوا کرو اور ان کو قلادے ڈالا کرو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں، گھوڑوں کی ان قسموں کا اہتمام کرو: سیاہی سرخی مائل یعنی قرمزی رنگ کے گھوڑے جن کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، سفید و سرخ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو اور وہ سخت سیاہ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس قسم کے گھوڑوں کا بہتر ہونا تجربے کی بنیاد پر تھا نہ کہ وحی سے، کسی اور علاقے اور زمانے میں اس کے خلاف بھی ممکن ہے، ویسے ان رنگوں کے گھوڑے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں، ماتھے پر پھول کی طرح کی سفیدی اور چاروں پاؤں گھٹنوں سے نیچے سفید، کیا ہی بھلے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5189
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلَا أَدْرِي بِالْكُمَيْتِ بَدَأَ أَوْ بِالْأَدْهَمِ قَالَ وَسَأَلُوهُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ قَالَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ الْأَشْقَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، محمد راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سیاہی سرخی مائل گھوڑے کا ذکر کیا یا سیاہ گھوڑے کا۔ جب لوگوں نے اس سے سوال کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید و سرخ گھوڑے کو کیوں فضیلت دی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تھا، جو آدمی سب سے پہلے فتح کی خوشخبری لایا تھا، وہ اس قسم کے گھوڑے پر سوار تھا۔
حدیث نمبر: 5190
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ مُحَجَّلُ الثَّلَاثِ مُطْلَقُ الْيَمِينِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین گھوڑا وہ ہے، جو سخت سیاہ ہو، اس کی پیشانی پر ہلکی سفیدی اور اوپر والے ہونٹ پر سفیدی ہو اور اس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور دائیں ٹانگ سیاہ ہو، اگر سخت سیاہ گھوڑا نہ ہو، تو سیاہی سرخی مائل گھوڑا ہو جائے، لیکن اس کی باقی صفات یہی ہوں۔
حدیث نمبر: 5191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شِکَال گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ گھوڑا ہوتا ہے جس کی دائیں ٹانگ میں یا دائیں ہاتھ اور بائیں ٹانگ میں سفیدی ہو۔