کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 4367
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتِ الْكَعْبَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم تازہ تازہ شرک یا جاہلیت کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کرکے اسے زمین کے ساتھ ملادیتا اور اس کے دودروازے بنا دیتا، ایک مشرق کی طرف سے اور دوسرا مغرب کی جانب سے اور میں حطیم میں سے چھ ہاتھ کے بقدر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، بات یہ ہے کہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو (مصارف کی قلت کی وجہ سے) وہ اس کی پوری تعمیر نہ کرسکے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کا کنڈا پکڑا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَاصَلَاۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، اِلَّا بِمَکَّۃَ، اِلَّا بِمَکَّۃَ۔)) … نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے، مگر مکہ میں، مگر مکہ میں۔‘‘ (مسند احمد: ۵/ ۱۶۵، سنن بیہقی: ۲/ ۴۶۱، ھذا حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ ’’الا بمکۃ‘‘ لکن یشھد لہ حدیث جبیر بن مطعم)
یہ بیت اللہ کا شرف ہے کہ اس میں طواف اور نماز کی ادائیگی کو ہر وقت جائز قرار دیا گیا ہے اور اس پاک خطۂ زمین میں کسی وقت کو کراہت والا نہیں قرار دیا گیا، تاکہ لوگ ہر وقت اس کی فضیلت سے مستفید ہوتے رہیں، اس مقام پر کوئی وقت کراہت کا نہیں ہے، جبکہ اس رخصت میں لوگوں کی بہت بڑی منفعت بھی ہے، خصوصاً اس دور میں کہ ایک طرف لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے، دوسری طرف طوافِ قدوم، طوافِ افاضہ، طوافِ وداع اور نفلی طواف اور طواف کی نماز کا مسئلہ ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ مسجد حرام میں داخل ہو رہے اور لاکھوں کی تعداد میں رخصت ہو رہے ہیں، اِدھر سے فرض نماز کے متصل بعد لوگ مسجد ِ حرام سے نکل رہے ہوتے ہیں،جبکہ اُدھر سے بیسیوں نئے قافلے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس مبارک مقام پر مکروہ اوقات کی پابندی میں بہت بڑی مشقت تھی، قربان جایئے حکیم و دانا پیغمبر پر کہ جنھوں نے یہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی رخصت کا بندوبست کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4367
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1333، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25977»
حدیث نمبر: 4368
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أَوْ صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبدمناف! اگر کوئی آدمی دن اور رات کے کسی حصے میں بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے یانماز پڑھنا چاہے تو تم نے کسی کو کسی صورت میں نہیں روکنا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کا کنڈا پکڑا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَاصَلَاۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، اِلَّا بِمَکَّۃَ، اِلَّا بِمَکَّۃَ۔)) … نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے، مگر مکہ میں، مگر مکہ میں۔‘‘ (مسند احمد: ۵/ ۱۶۵، سنن بیہقی: ۲/ ۴۶۱، ھذا حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ ’’الا بمکۃ‘‘ لکن یشھد لہ حدیث جبیر بن مطعم)
یہ بیت اللہ کا شرف ہے کہ اس میں طواف اور نماز کی ادائیگی کو ہر وقت جائز قرار دیا گیا ہے اور اس پاک خطۂ زمین میں کسی وقت کو کراہت والا نہیں قرار دیا گیا، تاکہ لوگ ہر وقت اس کی فضیلت سے مستفید ہوتے رہیں، اس مقام پر کوئی وقت کراہت کا نہیں ہے، جبکہ اس رخصت میں لوگوں کی بہت بڑی منفعت بھی ہے، خصوصاً اس دور میں کہ ایک طرف لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے، دوسری طرف طوافِ قدوم، طوافِ افاضہ، طوافِ وداع اور نفلی طواف اور طواف کی نماز کا مسئلہ ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ مسجد حرام میں داخل ہو رہے اور لاکھوں کی تعداد میں رخصت ہو رہے ہیں، اِدھر سے فرض نماز کے متصل بعد لوگ مسجد ِ حرام سے نکل رہے ہوتے ہیں،جبکہ اُدھر سے بیسیوں نئے قافلے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس مبارک مقام پر مکروہ اوقات کی پابندی میں بہت بڑی مشقت تھی، قربان جایئے حکیم و دانا پیغمبر پر کہ جنھوں نے یہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی رخصت کا بندوبست کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4368
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود: 1894، وابن ماجه: 1254، والترمذي: 868، والنسائي: 1/ 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16856»
حدیث نمبر: 4369
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ: كُنَّا نَطُوفُ فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ، وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کعبہ کے طواف کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا:ہم طواف کرتے تھے اور رکنِ یمانی اور حجر اسود کو چھوتے تھے اور ہم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک طواف نہیں کیاکرتے تھے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ: سورج شیطان کے دو سینگوں پر طلوع ہوتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مرفوع حصہ صحیح ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت شیطان کے دو سینگوں پر طلوع ہوتا ہے، لیکن اس باب کی پہلی حدیث کے ذریعے بیت اللہ کو اس کراہت سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ بعض صحابہ اور ائمہ کا بیت اللہ کو اس قسم کے مکروہ اوقات سے متعلقہ احادیث کا مصداق ٹھہرانا، یہ ان ہستیوں کا ذاتی اجتہاد ہو گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اِن کو مذکورہ بالا خصوصیت والی حدیث کا علم نہیں تھا۔ اس مسئلہ کے بارے میں کل تین اقوال ہے: ۱۔ سیدنا عمر، سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما اور امام مالک سمیت ایک جماعت کا نظریہیہ ہے کہ نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد طواف تو جائز ہے، لیکن دو رکعت نماز کو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے بعد ادا کیا جائے۔
۲۔ سعیدبن جبیر اور مجاہد سمیت بعض اہل علم کا خیال ہے کہ فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد طواف مکروہ ہے۔
۳۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر، امام حسن، عطائ، طاووس، قاسم اور عروہ کا مسلک یہ ہے کہ ہر وقت طواف جائز ہے، صبح کے بعد کا وقت ہو یا عصر کے بعد کا یا کوئی اور۔
آخری مسلک راجح ہے، جیسا اس باب کی پہلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4369
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره ، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15302»