کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ¤کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 4358
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدِ اشْتَكَى، فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ وَمَعَهُ مِحْجَنٌ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، ان دنوں آپ کچھ بیمار تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوارہوکر طواف کیاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجراسود کے پاس سے گزرتے تو اس کے ساتھ حجراسود کا استلام کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے اونٹ کو بٹھادیا اور دورکعت نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، وھذا اسناد ضعيف ۔ أخرجه ابوداود: 1881، وأخرجه البخاري: 1607، ومسلم: 1272 بلفظ: عن ابن عباس ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم طاف بالبيت علي راحلته يستلم الركن بمحجن۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2773»
حدیث نمبر: 4359
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ:) وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ: ((اسْقُونِي)) فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: ((لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) یہ حدیث دوسری سندسے بھی اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں ہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کیلئے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء الي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»
حدیث نمبر: 4360
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ، قَالَ أَبِي: وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ آئیں تو وہ ان دنوں بیمار تھیں، انہوں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم سوار ہوکر لوگوں سے پرے ہٹ کر طواف کرلو۔ وہ کہتی ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس تھے اور سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔امام احمد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن پر یہ روایت پڑھی: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس میں نے طواف کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا کر رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 464، 1619، 1626، ومسلم: 1276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27250»
حدیث نمبر: 4361
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَةٍ (وَفِي لَفْظٍ عَلَى رَاحِلَتِهِ) يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاٹھی کے ساتھ حجراسود کا استلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفاومروہ کی سعی بھی سواری پر کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4361
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1607، ومسلم: 1272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2118»
حدیث نمبر: 4362
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے سامنے آتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4362
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6299 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2378»
حدیث نمبر: 4363
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کااستلام کررہے تھے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں یہ زیادتی ہے: وَیُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ۔ … اور لاٹھی کو بوسہ دیتے تھے۔
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔
فوائد: … سواری پر طواف اور سعی کرنے کی مزید روایات اور اس کی وجوہات:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((طَافَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلٰی بَعِیْرِہٖیَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُضْرَبَ عَنْہُ النَّاسُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا، وہیں سے حجر اسود کا استلام کر لیتے، (سوار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) آپ ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کرنے کے لیے مارا جائے۔ (صحیح مسلم)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖبِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَاِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر اس لیے کی تھی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھ سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر سکیں، بات یہ تھی کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا۔ (ابوداود، نسائی)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف اور سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام طواف اور سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1275 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24208»