حدیث نمبر: 4323
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفاس اور حیض والی خواتین غسل کرکے احرام باندھ لیں اور تمام مناسک ادا کریں، البتہ جب تک پاک نہ ہو جائیں، بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔
حدیث نمبر: 4324
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام حج کے افعال ادا کرے گی۔
حدیث نمبر: 4325
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا، وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ: ((اقْضِ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ … )) الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: تم وہ سارے امور ادا کرو،جو دوسرے حاجی لوگ ادا کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حیض اور نفاس والی خواتین طواف نہیں کر سکتیں۔
حدیث نمبر: 4326
عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ لِأَهْلِ مَكَّةَ: ((لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ)) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سورۂ براء ۃ والی آیات دے کر اہلِ مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ وہاں یہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا، نہ کوئی آدمی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ توبہ کی تفسیر میں آخری حدیث پر بحث کی جائے گی۔ طواف سے متعلقہ مزید دو احادیث اور ان کی فقہ: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ حَوْلَ الْبَیْتِ مِثْلُ الصَّلَاۃِ، اِلَّا اَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ، فَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا یَتَکَلَّمَنَّ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) … ’’بیت اللہ کے ارد گرد طواف نماز کی طرح ہے، البتہ تم اس میں باتیں کرسکتے ہو، لیکن جو آدمی بات کرے، وہ خیر والی بات کرے۔‘‘ (ترمذی: ۹۶۰)
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاۃٌ فَاَقِلُّوْا مِنَ الْکَلَامِ۔)) … ’’بیت اللہ کا طواف نماز ہے، پس اس میں کم کلام کیا کرو۔‘‘ (سنن نسائی: ۲۹۲۲)
امام مالک، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم نے ان احادیث کی روشنی میں کہا ہے کہ چونکہ طواف نماز ہے، اس لیےیہ وضو کے بغیر درست نہیں ہو گا، امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ وضو، طواف کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر احتیاطاً وضو کر لیا جائے تو مناسب ہو گا، وگرنہ مذکورہ بالا احادیث وضو کے شرط ہونے کے بارے میں واضح نہیں ہیں، کیونکہ کسی چیز کو نماز کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نماز کے تمام احکام و مسائل اور شروط و قیود کا مصداق بن جائے گی، مثلا طواف کے دوران یہ امور جائز ہیں: نقل و حرکت کرنا، اِدھر اُدھر دیکھنا، باتیں کرنا، قبلہ رخ نہ ہونا، طواف میں انقطاع پیدا کر دینا، بلکہ کچھ چکروں کے بعد کہیں چلے جانا اور واپس آ کر مکمل کرنا، طواف قدوم میں کندھا ننگے رکھنا۔ جبکہ اِن امور میں سے کوئی چیز بھی نماز میں جائز نہیں ہے، اور نماز کے تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک کے تمام ارکان، فرائض اور مستحبّات میں سے کوئی چیز طواف کے اندر نہیں ہے، مثلارفع الیدین، قراء ت، رکوع، سجدہ، تشہد، درود وغیرہ۔ اگر ان تمام امور میں طواف اور نماز میںکوئی مماثلت اور مشابہت نہیں ہے تو مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں وضو کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے، اس بات کو تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ طواف بھی ایک قسم کی نماز ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز والی شرطیں طواف کرنے والے پر بھی عائد کر دی جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاۃٌ فَاَقِلُّوْا مِنَ الْکَلَامِ۔)) … ’’بیت اللہ کا طواف نماز ہے، پس اس میں کم کلام کیا کرو۔‘‘ (سنن نسائی: ۲۹۲۲)
امام مالک، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم نے ان احادیث کی روشنی میں کہا ہے کہ چونکہ طواف نماز ہے، اس لیےیہ وضو کے بغیر درست نہیں ہو گا، امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ وضو، طواف کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر احتیاطاً وضو کر لیا جائے تو مناسب ہو گا، وگرنہ مذکورہ بالا احادیث وضو کے شرط ہونے کے بارے میں واضح نہیں ہیں، کیونکہ کسی چیز کو نماز کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نماز کے تمام احکام و مسائل اور شروط و قیود کا مصداق بن جائے گی، مثلا طواف کے دوران یہ امور جائز ہیں: نقل و حرکت کرنا، اِدھر اُدھر دیکھنا، باتیں کرنا، قبلہ رخ نہ ہونا، طواف میں انقطاع پیدا کر دینا، بلکہ کچھ چکروں کے بعد کہیں چلے جانا اور واپس آ کر مکمل کرنا، طواف قدوم میں کندھا ننگے رکھنا۔ جبکہ اِن امور میں سے کوئی چیز بھی نماز میں جائز نہیں ہے، اور نماز کے تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک کے تمام ارکان، فرائض اور مستحبّات میں سے کوئی چیز طواف کے اندر نہیں ہے، مثلارفع الیدین، قراء ت، رکوع، سجدہ، تشہد، درود وغیرہ۔ اگر ان تمام امور میں طواف اور نماز میںکوئی مماثلت اور مشابہت نہیں ہے تو مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں وضو کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے، اس بات کو تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ طواف بھی ایک قسم کی نماز ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز والی شرطیں طواف کرنے والے پر بھی عائد کر دی جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔