کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
حدیث نمبر: 4306
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ، كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور موذی اور فاسق ہیں، ان کو حرم کے اندر بھی قتل کر دیا جائے: کلب ِ عقور، بچھو، کوا، چیل اور چوہا۔
حدیث نمبر: 4307
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((خَمْسٌ، فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ، وَالْحَرَمِ، الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :’’پانچ قسم کے جانور موذی اور فاسق ہیں ، ان کو حدودِ حرم کے اندر اور باہر ہر جگہ قتل کیا جائے : سانپ ، کوا ، چوہا ، کلبِ عقور اور چیل ۔‘‘
حدیث نمبر: 4308
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْكَلِبُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ان پانچ قسم کے جانوروں کو محرم قتل کر سکتا ہے : سانپ ، چوہا ، کوا ، چیل اور باؤلا کتا ، ان جانوروں کو حدودِ حرم کے اندر اور باہر ہر جگہ قتل کیا جا سکتا ہے ۔‘‘
حدیث نمبر: 4309
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةَ، وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) حسن سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو اِن پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کی اجازت دی ہے: سانپ، بچھو، باؤلا کتا، کوا، چیل اور چوہا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ ایک بچھو نے آپ کو ڈس لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مارنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 4310
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَمْسٌ، كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ، يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأُرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں، وہ موذی ہیں، محرم بھی ان کو قتل کر سکتا ہے اور حدودِ حرم میں بھی ان کو قتل کیا جا سکتا ہے: چوہا، بچھو، سانپ، کلب ِ عقور اور کوا۔
حدیث نمبر: 4311
عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْأَفْعَى، وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ)) قُلْتُ: مَا الْفُوَيْسِقَةُ؟ قَالَ: ((الْفَأْرَةُ)) قُلْتُ: وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ؟ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ فَصَعِدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ لِتُحْرِقَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم ازدہا، بچھو، چیل، باؤلا کتے اور چوہے کو قتل کر سکتا ہے۔ میں نے کہا: فُوَیْسِقَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوہا۔ میں نے پوچھا: چوہے کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور دیکھا کہ چوہا چراغ کی جلتی لو لے کر چھت کی طرف جا رہا تھا تاکہ چھت کو آگ لگا دے۔
حدیث نمبر: 4312
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: ((الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْحِدَأَةَ وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےیہ سوال کیا گیا کہ محرم کون کون سے جانوروں کو قتل کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سانپ، بچھو، چوہے، باؤلے کتے، چیل اور خون خوار درندے کو قتل کرے اور کوے کو ڈرا کر اڑا دے اور اسے قتل نہ کرے۔
حدیث نمبر: 4313
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ، قَالَ: ((يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچھو، چوہے، چیل، کوے اور کلب ِ عقورکو قتل کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4314
عَنْ وَبَرَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ لِلْمُحْرِمِ يَعْنِي وَالْفَأْرَةَ وَالْغُرَابِ وَالْحِدَاءِ)) فَقِيلَ لَهُ: فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو حکم دیا کہ وہ بھیڑیئے، چوہے، کوے اور چیل کو مار قتل کرے۔ ان سے کہا گیا: سانپ اور بچھو کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہاں: روایات میں ان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4315
عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُقْتَلُ الْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ محرم کون کون سے جانوروں کو قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ایک خاتون نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چیل، کوے، باؤلے کتے، چوہے اور بچھو کو مارا جا سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ‘‘:حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔
امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔ ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب عقور، سانپ، بھیڑیا۔ کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کیروایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میں یہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم اور غیر حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔
امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔ ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب عقور، سانپ، بھیڑیا۔ کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کیروایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میں یہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم اور غیر حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔