کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4295
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ): ((صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ، قَالَ سَعِيدٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم احرام کی حالت میں ہو تو تمہارے لیے خشکی کا شکار اس صورت میں حلال ہو گا کہ نہ تو تم خود وہ شکار کرو اور نہ تمہاری خاطر کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … محرِم کے لیے خشکی کے کون سے شکار کا گوشت جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ اس معاملے میں اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک امتیازی قانون بیان کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں دوسری احادیث کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔ پچھلے باب کی جن احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکار کا گوشت نہیں کھایا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلانے کے لیے کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1851، والترمذي: 846، والنسائي: 5/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14955»
حدیث نمبر: 4296
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي فَضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَأَثْبَتُّهُ فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، وَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ وَهُوَ بِتِعْهِنَ، وَهُوَ مِمَّا يَلِي السُّقْيَا، فَأَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَصْحَابَكَ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ، قَالَ: فَانْتَظَرَهُمْ، قُلْتُ وَقَدْ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ((كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ دشمن غیقہ کے مقام پر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے، جب میں بھی ادھر متوجہ ہوا تو میری نظر ایک جنگلی گدھے پر پڑی، میں نے ان سے مدد چاہی، لیکن انہوں نے شکار کرنے میں میری مدد کرنے سے انکار دیا، بہرحال میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار گرایا، ہم نے اس کا گوشت کھایا، لیکن ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اچک لیے جائیں (یعنی ہماری تعداد تھوڑی ہونے کی وجہ سے دشمن ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے) ، اس لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا، میں اپنے گھوڑے کو کچھ دور تک دوڑاتا اور کچھ فاصلے تک آہستہ چلتا، رات کو میری ملاقات بنو غفار کے ایک آدمی سے ہوئی، میں نے اس سے پوچھا: آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس مقام پر ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے بتایا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سقیا کے قریب تَعْھِن کے مقام پر چھوڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر پا لیا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے رفقاء آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت پیش کرتے تھے، انہیں اندیشہ تھا کہ دشمن ان پر حملہ نہ کر دے، لہٰذا آپ یہیں ان کا انتظار کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں ان کا انتظار کیا اور میں نے عرض کیا: میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا تھا، میرے پاس اس کا ایک عضو باقی بچا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھالو۔ جبکہ وہ محرم تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1821، 1822،2570، 2854، 4149، 5406، ومسلم: 1196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22937»
حدیث نمبر: 4297
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ، فِي بَعْضِ عُمَرِهِ إِلَى مَكَّةَ وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاهُ بِقُدَيْدٍ فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، قَالَ: فَكُنْتُ حَلَالًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: هَذِهِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَيْتُهَا وَأَنْضَجْتُهَا وَأَطْيَبْتُهَا، قَالَ: ((فَهَاتِهَا)) قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا فَنَهَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) معبد بن کعب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کے ایک سفر میں ہمیں ساحل سمندر کی طرف روانہ کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مکہ مکرمہ کی طرف جا رہے تھے اور ہم سے وعدہ لیا کہ ہم قدید کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملیں، پس ہم نکل پڑے، ہم میں سے بعض لوگ محرم تھے اور بعض غیر محرم، میں بھی غیر محرم تھا، … ۔ اس کے بعد ساری حدیث بیان کی اور کہا: یہ اس کی ایک ٹانگ ہے، میں نے اسے خوب بھونا پکایا اور اچھا بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ادھر لاؤ۔ جب میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22976»
حدیث نمبر: 4298
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ، أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے کسی راستے میں تھے، میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا، دوسرے لوگ محرم تھے اور میں محرم نہ تھا، میں ایک جنگلی گدھا دیکھ کر گھوڑے پر سیدھا ہو گیا اور اپنے دوستوں سے کہا: مجھے ذرا میری لاٹھی پکڑا دو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا: مجھے میرا نیزہ پکڑا دو، انہوں نے یہ کام کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ میں نے خود اتر کر نیزہ اٹھا لیا اور اس جنگلی گدھے پر چڑھ دوڑا اور بالآخر اسے شکار کر لیا، بعض صحابہ نے تو اس سے کھا لیا، لیکن بعض نے اسے کھانے سے انکار دیا، جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا کھانا تھا، جو اللہ تعالی نے تمہیں کھلایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22935»
حدیث نمبر: 4299
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بِنَحْوِهِ (وَفِيهِ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ مِنْ شَيْءٍ؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کوئی حصہ باقی ہے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22936»
حدیث نمبر: 4300
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَإِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حدیبیہ والے سال سفر میں روانہ ہوا، میرے رفقاء نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا،میں نے دوران سفر ایک جنگلی گدھا دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ میں احرام کی حالت میں نہیں تھا اور میں نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر شکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم کھالو۔ پس صحابہ نے تو کھا لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کھایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ’’انما اصطدته لك‘‘ ودون قوله: ’’ولم يأكل منه حين اخبرته اني اصطدته له‘‘۔ أخرجه ابن ماجه: 3093، وأخرجه البخاري: 1823، ومسلم: 1196 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22961»
حدیث نمبر: 4301
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذِهِ رَمْيَتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عُقْبَةَ أُثَايَةَ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: ((قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرج کے مقام پر تھے کہ وہاں ایک شکار کیا ہوا جنگلی گدھا پڑا تھا، تھوڑی دیر کے بعد بنو بہز کا ایک آدمی وہاں آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر تیر چلایا تھا، یہ یہاں آ کر گر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کھائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کا گوشت رفقائے سفر میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کو روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اثایہ کی گھاٹی پر پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہرن دیکھا، اس کو تیر لگا ہوا تھا اور وہ ایک پتھر کے سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی سے فرمایا: تم یہاں کھڑے رہو تاکہ لوگ گزر جائیں اوران میں سے کوئی بھی اس کی طرف کوئی چیز نہ پھینکے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ کوئی آدمی نہ اس جانور کو چھوئے، نہ اس کو حرکت دے اور نہ اس کو جوش دلائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي: 7/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15529»
حدیث نمبر: 4302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَزَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں: ہم سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں جا رہے تھے، ان کی خدمت میں شکار کیا ہوا ایک پرندہ بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے تو اس کو کھا لیا اور بعض نے اپنا حصہ تقسیم کر دیا اور اسے نہ کھایا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس شکار کو کھانے والوں کو درست قرار دیا اور کہا: ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسے شکار کا گوشت کھایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1383»
حدیث نمبر: 4303
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ کھایا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ محرِم شکار کا گوشت اس وقت کھا سکتا ہے جب نہ تو اس نے خود شکار کیا گیا ہو اور نہ اس کو کھلانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کسی غیر محرِم آدمی نے اپنے لیےیا دوسرے غیر محرِم افراد کے لیے شکار کیا ہو، لیکن اتفاقی طور پر محرِم تک بھی وہ گوشت پہنچ گیا تو اسے چاہیے کہ وہ کھا لے۔
جَزَائُ الصَّیْدِ وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا
لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ … الاٰیۃ}
شکار کا متبادل اور اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر:{یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا … اَنْتُمْ حُرُمٌ}
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 3091 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 830»
حدیث نمبر: 4304
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَكَسَرَ بَيْضَهَا، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ جَنِينُ نَاقَةٍ أَوْ ضِرَابُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ قَالَ عَلِيٌّ بِمَا سَمِعْتَ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ صَوْمٌ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک انصاری آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے اونٹ نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے، جبکہ اس پر سوار آدمی احرام کی حالت میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تو ہر انڈے کے عوض اونٹنی کا ایک جنین (یعنی بچہ) بطور فدیہ ادا کر، اس کے بعد وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم علی کی بات تو سن چکے ہو، لیکن اب رخصت اور آسانی کی طرف آؤ اور وہ یہ کہ تم ہر انڈے کے بدلے ایک روزہ رکھ لو یا ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہٗمِنْکُمْمُّّتَعَمِّدًافَجَزَآئٌمِّثْلُمَاقَتَلَمِنَالنَّعَمِیَحْکُمُ بِہٖذَوَاعَدْلٍمِّنْکُمْھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذَالِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ} … ’’اےایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت ِ احرام میں ہو، اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہو گا، جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں، خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لیے جائیں تاکہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۹۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ’’ضَبُع‘‘ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُوَ صَیْدٌ وَیُجْعَلُ فِیْہِ کَبْشٌ اِذَا صَادَہُ الْمُحْرِمُ۔)) … یہ واقعی شکا ر ہے اور جب محرِم اس کا شکار کرے گا تو اس میں (بطورِ فدیہ) دنبے کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘ (ابو داود: ۳۸۰۱، ترمذی: ۸۵۱، نسائی: ۲۸۳۶، ابن ماجہ: ۳۰۸۵)’’ضَبُع‘‘ کو فارسی میں کفتار کہتے ہیں،یہ وہ جانور ہے جو تازہ قبریں اکھاڑتا ہے، کیونکہیہ بندوں کا گوشت کھانے کا بڑا شوقین ہوتا ہے، اگر تصویر والی لغت دیکھ لی جائے تو بہتر ہو گا۔آیت ِ کریمہ میں مساوی جانور سے مراد خلقت یعنی قد و قامت میں مساوی ہونا ہے، قیمت میں مساوی ہونا نہیں، مثلا اگر ہرن کو قتل کیا ہے تو اس کی مساوی بکری ہے، نیل گائے کی مثل گائے ہے، وغیرہ، ایسے متبادل جانور کو حرم میں لے جا کر ذبح کر کے وہاں کے مسکینوں میں اس کا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطورِ فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے گی اور اس سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں تقسیم کر دیا جائے گا، یہاں کعبہ اور مکہ سے مراد حرم ہے۔مساکین کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا، دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرناجائز ہے، مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کمی بیشی ہو گی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہو گی، مثلا محرِم نے ہرن قتل کر دیا، اس کی مثل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے، اگر اس نے بارہ سنگھا، سانبھر یا اس جیسا کوئی جانور قتل کر دیا تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو بیس مسکین کو کھانا یا بیس دن کے روزے رکھنا ہوں گے، یا ایسا جانور (شتر مرغ یا گورخر وغیرہ) قتل کیا ہے، جس کی مثل اونٹ ہے تو اس کی عدم دستیابی کی صورت میں۳۰ مساکین کو کھانا یا۳۰ روزے رکھنے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
حدیث نمبر (۴۲۷۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب سیدنا کعب بن عجرہ نے احرام کی حالت میں سر منڈوا لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جو فدیہ بتلایا تھا، اس کی تفصیلیہ تھی: وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلائے یا ایک بکری ذبح کر دے۔ اس حدیث سے اس حقیقت کا اشارہ سا ملتا ہے کہ ایک صاع کے بدلے ایک روزہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جَوَازُ اَکْلِ صَیْدِ الْبَحْرِ مُطْلَقًا لِلْمُحْرِمِ وَغَیْرِہٖ وَمَا جَائَ فِیْ الْجَرَادِ، وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ}
محرم اور غیر محرم کے لیے مطلق طور پر سمندری شکار کو کھانے کا اور اس سلسلے میں ٹڈی کے حکم اور اللہ تعالی کے اس فرمان
{اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ} کا بیان
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4304
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مطر بن طھمان الوراق كثير الخطأ ليس بذاك القوي، وقد اضطرب في اسناده۔ أخرجه ابوداود في ’’المراسيل‘‘: 139، والبيھقي: 5/ 207، والدار قطني: 2/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20858»
حدیث نمبر: 4305
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعَصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ وَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَقُلْنَا: مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج یا عمرہ کے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ٹڈیوں کا ایک لشکر ہمارے سامنے آگیا، ہم اپنی لاٹھیوں اورچھڑیوں کے ساتھ ان کو مارنے لگے اور قتل کرنے لگے، پھر ہمیں اپنے کیے پر ندامت ہوئی اور ہم نے کہا: ہم تو محرم تھے، ہم نے کیا کر دیا ہے؟ پس ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔} … ’’تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے، تمہارے فائدے کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے، جب تک تم احرام میں رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو جس کے پاس جمع کیے جاؤ گے۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۹۶)اس حقیقت پر اہل علم کا اجماع ہے کہ محرِم کے لیے سمندر کا شکار کرنا، اس کو کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اس شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتا ہے، جیسے مچھلی۔ سمندر کے شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں رہتا ہے، اس لیے اگر محرِم ایسے جانور کو کنووں اور تالابوں وغیرہ میں پا لے تو اس کا شکار کر سکتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْجَرَادُ مِنْ صَیْدِ الْبَحْرِ۔)) … ’’ٹڈی سمندر کے شکار میں سے ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۸۵۳، اسنادہ حسن، میمون بن جابان لاینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرِم ٹڈی کا شکار بھی کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لحاظ سے اس جانور کو سمندر کا شکار قرار دیا ہو کہ اس کے مردار کا حکم مچھلی کے مردار کی طرح ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، مؤمل بن اسماعيل سيء الحفظ، وابو المھزم واسمه يزيد ويقال: عبد الرحمن بن سفيان، متروك ۔ أخرجه ابوداود: 1854، وابن ماجه: 3222، والترمذي: 850 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8750»