کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4288
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ الْأَسَدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ، وَقَالَ: ((إِنَّا مُحْرِمُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدناصعب بن جثامہ اسدی رضی اللہ عنہ نے وحشی گدھے کی ایک ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا: ہم احرام کی حالت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4289
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهَةَ، قَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابواء یا ودان کی وادی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا، میں نے جگلی گدھے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا،لیکن جب میرے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے یہ گوشت واپس نہیں کرنا تھا، بات یہ ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4290
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے ابواء یا ودان میں جنگلی گدھے کا گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ردّ کر دیا، … ۔
حدیث نمبر: 4291
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: الْحِمَارُ عَقِيرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) یہ حدیث ایسے ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے جنگلی گدھے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، لیکن آپ۱ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا،۔اس کے آخر میں ہے: میں (ابن جریج) نے ابن شہاب سے کہا: کیایہ جنگلی گدھا شکاری کے تیر کی وجہ سے مرا ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔
حدیث نمبر: 4292
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: نَعَمْ أَهْدَى رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ وَقَالَ: إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ طاؤس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ایک آدمی نے شکار کے گوشت کا ایک عضو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا تھا: ہم یہ نہیں کھائیں گے، کیونکہ ہم محرم ہیں۔
حدیث نمبر: 4293
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهَا، (وَفِي لَفْظٍ: فَلَمْ يَأْكُلْهُ) قَالَ سُفْيَانُ: الْوَشِيقَةُ مَا طُبِخَ وَقُدِّدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہرن کا کم ابلا ہوا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا اور نہیں کھایا۔ سفیان نے کہا: وَشِیْقَہ وہ ہوتا ہے، جس کو پکایا جائے اور پارچے بنا کر خشک کر لیا جائے۔
حدیث نمبر: 4294
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ قَالَ: كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا، فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا؟ فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ (وَفِي لَفْظٍ: بِعَجُزِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ)) قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ، (وَفِي لَفْظٍ: بِخَمْسِ بَيْضَاتِ نَعَامٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ)) قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ، قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَهُ (وَفِي لَفْظٍ: فُسْطَاطَهُ) وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی کا بیان ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں میرے والد حارث بن نوفل مکہ کے مسئول تھے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو میں عبد اللہ بن حارث نے قدید کے قریب نزل کے مقام پر ان کا استقبال کیا، وہاں کے لوگوں نے چکور پرندے کا شکار کیا ہوا تھا، ہم نے اسے پانی اور نمک میں پکایا اور ثرید کے لئے اس کا شوربا بنایا، پھر ہم نے اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی خدمت میں پیش کیا، لیکن وہ اسے کھانے سے باز رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نہ تو یہ شکار کیاہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے اور جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے یہ شکار کرکے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، اب اس میں کیا حرج ہے؟ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مسئلہ کے بارے میں کون بیان کرے گا؟ لوگوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، سو وہ تشریف لائے۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، وہ اپنی ہتھیلیوں سے پتے جھاڑ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نہ تو ہم نے یہ شکار کیا اور نہ ہم نے اس کو شکار کرنے کے بارے میں کوئی حکم دیا، جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے شکار کرکے اس کو ہمارے سامنے پیش کر دیا،اب اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غضبناک ہو گئے اور کہنے لگے: میں اس آدمی کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو اس واقعہ میں موجود تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھے کا ایک عضو پیش کیا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہم احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ بارہ صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تائید کی۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اس آدمی کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شتر مرغ کے انڈے (اور ایک روایت کے مطابق) پانچ انڈے پیش کئے گئے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: ہم تو احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ اس دفعہ بارہ سے کم افراد نے گواہی دی،یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کھانے سے اپنے سرین موڑ لیے اور اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور اس پانی والوں نے وہ کھانا کھا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ احرام کی حالت میں شکار کا گوشت نہیں کھایاجا سکتا، مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔