کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
حدیث نمبر: 4280
عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ محرم اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی کا کروا سکتا ہے اور نہ نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4280
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 534»
حدیث نمبر: 4281
عَنْ نُبَيْحِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا، إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي نُبَيْحٌ عَنْ أَبِيهِ بِنَحْوِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نُبَیہ بن وہب کہتے ہیں: عمر بن عبید اللہ اپنے بیٹے (طلحہ) کے لیے شیبہ بن عثمان کی بیٹی کا رشتہ لینا چاہتے تھے، پس انھوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا، جبکہ وہ اس وقت امیرِ حج تھے، انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ شخص بھی بدّو ہی ہے، (جو شرعی احکام سے جاہل ہے)، بات یہ ہے کہ محرم نہ نکاح کر سکتا ہے اور نہ کروا سکتا ہے، مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4281
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1409 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 535»
حدیث نمبر: 4282
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ، فَقَالَ: لَا تَتَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، جبکہ وہ مکہ سے باہر تھے، سے پوچھا کہ ایک آدمی، ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، اب اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ عمرہ اور حج بھی کر لے (اور پھر احرام کی حالت میں شادی بھی کرے) سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم احرام کی حالت میں اس سے شادی نہیں کر سکتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4282
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني في ’’السنن‘‘: 3/ 260 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5958»
حدیث نمبر: 4283
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں شادی کر لینے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے، کیونکہ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں شادی کی تھی، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرف مقام پر پانی کے پاس تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا تو اسی پانی کے پاس آ ئے تو ان کی رخصتی عمل میں آئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4258، 5114، ومسلم: 1410 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2492»
حدیث نمبر: 4284
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَبَنَى بِهَا حَلَالًا بِسَرِفَ وَمَاتَتْ بِسَرِفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا،لیکن جب سرف مقام پر ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے، پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بعد میں اسی مقامِ سرف پر فوت ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4284
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3384»
حدیث نمبر: 4285
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو وہ دونوں احرام کی حالت میں تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا وہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2200»
حدیث نمبر: 4286
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَمَاتَتْ بِسَرِفَ فَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا، فَنَزَلْنَا فِي قَبْرِهَا أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید بن اصم سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خلوت اختیار کی تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ بعد میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی سرف کے مقام پر ہوا تھا، ہم نے انہیں اسی سائے میں دفن کیا تھا،جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ شب باشی کی تھی، میں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27365»
حدیث نمبر: 4287
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور جب ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے یعنی احرام کی حالت میں نہ تھے اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔
وضاحت:
فوائد: … منگنی کا پیغام بھیجنا، نکاح کرنا اور نکاح کروانا، یہ سب امور محرِم کے لیے حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام سے پہلے شادی کی تھی، اس معاملے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو حقیقت ِ حال کا علم نہ ہو سکا تھا اور انھوں نے کسی وہم کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا تھا، ممکن ہے کہ جب یہ نکاح مشہور ہوا ہو تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہی سمجھ لیا ہو کہ ابھی نکاح ہوا ہے۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا صاحب القصہ تھیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ اس نکاح کے قاصد تھے، ان دونوں کا بیانیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرِم کے لیے نکاح کرنے کو حرام بھی قرار دیا ہے، اس لیےیہ قرائن اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ نکاح احرام سے پہلے ہوا تھا۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام بَرّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرۂ قضا کے موقع پر ذوالحجہ ۷ ھ میں احرام سے پہلے ان سے نکاح کیا تھا اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حق زوجیت ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه الترمذي: 841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27739»