کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
حدیث نمبر: 4272
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1814، 1816، 4517، 6708، ومسلم: 1201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18280»
حدیث نمبر: 4273
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ سر منڈوالے اور فرمایا : تم فدیہ میں تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلاؤ کہ ہر ایک کو دو دو مُدّ کھانا آ جائے یا ایک بکری ذبح کر دو، تم ان میں سے جو کام بھی کر لو گے، تمہیں کفایت کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18286»
حدیث نمبر: 4274
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ وَهُمْ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطْعِمَ فَرْقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَذْبَحَ شَاةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوالوں، جبکہ مسلمان ابھی حدیبیہ کے مقام میں تھے اور ابھی تک ان کو یہ علم نہیں تھا کہ سب کو اسی مقام پر سر منڈوانا پڑے گا، سب کو یہی امید تھی کہ وہ مکہ مکرمہ داخل ہوں گے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک فَرَق چھ مساکین میں تقسیم کر دوں یا تین روزے رکھوں یا ایک بکری ذبح کروں۔
وضاحت:
فوائد: … ایک ’’فَرَق‘‘ میں تین صاع کی گنجائش ہوتی ہے اور ایک صاع میں چار مُدّ ہوتے ہیں، اس طرح ہر مسکین کو دو دو مُدّ ہی آئے گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18293»
حدیث نمبر: 4275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ أَصْعِثٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) یہ حدیث اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرمنڈوا دو اور بطور فدیہ ایک بکری ذبح کرو یا تین روزے رکھو یا کھجور کے تین صاع چھ مساکین میں تقسیم کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18297»
حدیث نمبر: 4276
(وَمِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّيِّ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي لَفْظٍ: يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ) فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ: فَقَالَ كَعْبٌ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: ((مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟)) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (پانچویں سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، اس لیے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرایہ خیال تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) یعنی تین روزے رکھنا یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلانا کہ ہر ایک کو نصف نصف صاع آ جائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت خاص طور پر نازل تو میرے بارے میں ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18289»
حدیث نمبر: 4277
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ سَادِسٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: ((أَتَقْدِرُ عَلَى نُسُكٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چھٹی سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلا دو کہ ہر مسکین کو کھجوروں کا نصف نصف صاع مل جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18300»
حدیث نمبر: 4278
(وَمِنْ طَرِيقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ((احْلِقْ)) وَنَزَلَتِ الْآيَةُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ أَصْوَعٍ مِنْ تَمْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (ساتویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ کہتے ہیں:میرے سر میں اس قدر جوئیں ہو گئیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میرے سر کے ہر ہر بال کی جڑ سے لے کر اوپر تک جوئیں ہی جوئیں ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرایہ حال دیکھا تو فرمایا: سر منڈا دو۔ اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ مساکین کو تین صاع کھجوریں کھلا دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18281»
حدیث نمبر: 4279
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَامِنٍ) عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ كَعْبًا أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ مِنَ الْقَمْلِ، قَالَ: ((صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوْ اذْبَحْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (آٹھویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوؤں کی وجہ سے ان کو سر منڈوا دینے کا حکم دیا اور فرمایا: تین روزے رکھو یا ہر مسکین کو دو دو مُدّ کر کے چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … عمرہ کے موقع پر سعی کے بعد اور حج کے موقع پر (۱۰) ذوالحجہ کو حجامت کروائی جاتی ہے، اگر کسی عذر کی وجہ سے وقت سے پہلے سر کی تقصیریا تحلیق کروانا پڑ جائے، تو ایسا کروایا جا سکتا ہے، لیکن فدیہ ادا کرنا پڑے گا، فدیہ کی تفصیل اس باب میں بیان ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18296»