کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور¤عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4267
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان میں سے ایک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑی ہوئی تھی اور دوسرا اپناکپڑا اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کر رہا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے معلوم ہوا کہ محرِم پر سایہ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح کسی سایہ دار چیز جیسے شامیانہ، چھپر، سائبان اور شیڈ وغیرہ کے نیچے بھی بیٹھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27801»
حدیث نمبر: 4268
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمَّنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَإِلَى جَانِبِهِ بِلَالٌ، بِيَدِهِ عُودٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ يُظَلِّلُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہ ، ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں، جس نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ترویہ والے دن (یعنی آٹھ ذوالحجہ کو) منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اورسیدنا بلال رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے، ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، اس پر ایک کپڑا تھا، جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر سایہ کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4268
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، علي بن يزيد الالھاني متروك الحديث، وعثمان بن ابي العاتكة ضعيف ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22661»
حدیث نمبر: 4269
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الرَّجُلِ الَّذِي وَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آدمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، جسے اس کی اونٹنی نے گرا دیا تھا اور وہ فوت ہو گیا تھا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا تھا: اس کا سر نہ ڈھانپنا، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1851، ومسلم: 1206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1850»
حدیث نمبر: 4270
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا، أَسْدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَازُوا بِنَا كَشَفْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں، جب قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنی چادریں سروں سے چہروں کے اوپر کر لیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو ہم چہرے سے چادریں ہٹا لیتیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4270
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي ۔ أخرجه ابوداود: 1833، وابن ماجه: 2935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:24021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24522»
حدیث نمبر: 4271
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُهُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرٌ، فَقَالَ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: قَدْ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ: ((انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا يَصْنَعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام عرج پر پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سواری اور سامان وغیرہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے غلام کی تحویل میں تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے غلام کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب وہ آیا تو اس کے پاس اونٹ نہیں تھا، جب انھوں نے اس سے پوچھا کہ اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ تو رات کو گم ہو گیا تھا، یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور کہنے لگے: ایک ہی اونٹ تھا، وہ بھی تم نے گم کر دیا،یہ کہہ کر اسے مارنے بھی لگ گئے،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: دیکھویہ احرام کی حالت میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرِم تادیبی کاروائی کرتے ہوئے اپنے غلام کو سزا دے سکتا ہے، بہرحال افضل یہی ہے کہ معاف کر دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہی تھا یا سزا دینا ضروری ہو تو ممکن حد تک اسے حلال ہونے تک مؤخر کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: حسن (سنن ابي داود)۔ أخرجه ابوداود: 1818،و ابن ماجه: 2933 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:26916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27455»