حدیث نمبر: 4259
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر درد محسوس کرنے کی وجہ سے سر میں سینگی لگوائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے۔
حدیث نمبر: 4260
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل کے مقام پر احرام کی حالت میں سر پر سینگی لگوائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ کا نام لحی جمل ہے اور یہ مقام مدینہ کے زیادہ قریب ہے۔ امام نووی نے کہا: اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ کسی عذرکی بنا پر سر وغیرہ سینگی لگوانا جائز ہے، اگرچہ بال کاٹنے پڑیں، لیکن بال کاٹنے کی وجہ سے فدیہ لازم آئے گا، اگر بال کاٹنے کی نوبت نہ آئے تو کوئی فدیہ نہیں ہو گا، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِّنْ رَّأْسِہٖفَفِدْیَۃٌ} … ’’البتہ جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میں سینگی لگوانا، اس کو عذر پر محمول کیا جائے، کیونکہ اس کے لیے ہر صورت میں بال کٹوانا پڑیں گے، اگر محرِم بغیر عذر کے سینگی لگوانا چاہے اور اس کے بال بھی کاٹنا پڑیں تو بال کاٹنے کی وجہ سے اس کا یہ فعل حرام ہو گا، ہاں اگر بال کاٹے بغیر سینگی لگوا لی جائے، جبکہ کوئی مجبوری بھی نہ ہو، تو یہ جائز ہو گا اور اس پر کوئی فدیہ بھی نہیں پڑے گا۔
حدیث نمبر: 4261
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں پاؤں کی پشت پر سینگی لگوائی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر تکلیف تھی۔
حدیث نمبر: 4262
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْأَةٍ كَانَتْ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت یا کولہے میں تکلیف تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سینگی لگوائی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے۔
حدیث نمبر: 4263
عَنْ نُبَيْحِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيَكْحُلُ عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَوْ بِأَيِّ شَيْءٍ يَكْحُلُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَضْمَدَهَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نبیہ بن وہب کا بیان ہے کہ عمر بن عبید اللہ نے سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ایک آدمی کو بھیج کر پوچھا کہ آیا وہ احرام کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگا سکتے ہیں یا وہ احرام کی حالت میں آنکھوں میں کونسی چیز لگائیں؟ ابان نے واپسی جواب بھیجا کہ صَبِر لگا لیں، انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 4264
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ أَوْ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ أَنْ يَضْمَدَهَا بِالصَّبِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رخصت دی ہے کہ اگر محرم کی آنکھوں میں تکلیف ہو تو وہ صَبِر لگا سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایلوا، جو ایک کڑوا پودا ہے، اس کو اور اس کے عرق کو ’’صَبِر‘‘کہتے ہیں۔اس چیز کی جگہ پر آنکھ کا ڈراپ بھی ڈالا جا سکتا ہے، بہرحال اس سے کوئی خوشبونہیں آنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 4265
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بِالْأَبْوَاءِ، فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ قَدْ سَتَرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ بِهِ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي وَجْهُهُ وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَشَارَ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا مسور رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابواء کے مقام پر تھا، ہم باتیں کر رہے تھے، دورانِ گفتگو یہ ذکر ہونے لگا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیجا اوریہ پیغام دیا کہ ان کو کہنا کہ آپ کا بھتیجا عبد اللہ آپ کو سلام کہتاہے اور یہ پوچھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھویا کرتے تھے؟ جب میں وہاں پہنچا تو انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک کنوئیں کے دو ستونوں کے درمیان غسل کر رہے تھے اور کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا، جب میں ان کے سامنے ظاہر ہوا تو انہوں نے پردے والے کپڑے کو سینہ تک نیچے کیا، سو ان کا چہرہ میرے لئے ظاہر ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر ان کے سر پر پانی ڈال رہا تھا۔ (جب میں نے یہ سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟) تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھاکرکے اپنے پورے سر پر آگے پیچھے پھیرا، جب میں نے واپس جا کر ساری بات ذکر کی تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آئندہ آپ سے کوئی مباحثہ نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 4266
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَسَأَلْتُهُ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں اختلاف ہوا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، لیکن سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، ان دونوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤں، جب میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے گھمایا اور پھر کہا: میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … محرم کے نہانے، سردھونے اور آنکھ کوئی دوا وغیرہ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے، سینگی لگوانے کا مسئلہ باب کے شروع میں گزر چکا ہے۔