کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4244
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ أَوْ قَالَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ، فَقَالَ: ((لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا، أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! محرم کس قسم کا لباس پہن سکتا ہے؟ یا اس نے کہا کہ محرم کس قسم کا لباس نہیں پہن سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہیں پہن سکتا، ہاں اگر اسے جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک (کاٹ کر) پہن سکتا ہے، اسی طرح کوٹ یا برانڈی نہیں پہن سکتا اور وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔
حدیث نمبر: 4245
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ) وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور احرام والی عورت نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔
حدیث نمبر: 4246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ وَلَا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ، وَلَا الزَعْفَرَانُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ((اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّھَنَ وَلَبِسَ اِزَارَہٗوَھُوَوَاَصْحَابُہٗ،فَلَمْیَنْہَ عَنْ شَیْئٍ مِنَ الْاَرْْدِیَۃِ وَالْاُزُرِ تُلْبَسُ اِلَّا الْمُزَعْفَرَۃَ الَّتِیتَرْدَعُ عَلَی الْجِلْدِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنگھی کی، تیل لگایا اور ازار پہنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ مدینہ سے چل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چادر اور ازار پہننے سے منع نہیں کیا، مگر وہ زعفران والی چادر، جس سے زعفران جسم پر لگ جاتی ہو۔ (صحیح بخاری: ۱۵۴۵)
حدیث نمبر: 4247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ: ((لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ)) فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو، … ۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قمیص اور شلوار سے منع کر کے یہ تنبیہ کر دی گئی کہ ہر وہ لباس منع ہے جو بدن یا کسی ایک عضو کے مطابق سلائی کیا جائے۔ ٹخنوں سے مراد ہر پاؤں کی وہ دو دو ہڈیاں ہیں، جو پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ پر نظر آتی ہیں، عام طور پر ہم لوگ ان ہی ہڈیوں کو ٹخنے کہتے ہیں۔ نقاب سے مراد عورت کا چہرے پر کپڑے کا کسنا اور باندھنا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا: نقاب سے مراد وہ دوپٹہ ہے، جو ناک پر یا آنکھوں کے خانوں کے نیچے باندھا جاتا ہے۔لیکنیہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جیسے مرد قمیص نہیں پہن سکتا ہے، لیکن اپنے بدن کو چادر سے ڈھانک سکتا ہے اور عورت دستانے نہیں پہن سکتی، لیکن اس کے دوپٹے یا چادر وغیرہ میں اس کے ہاتھ چھپ سکتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے چہرے پر اس طرح کپڑا کر لے، جو کہ نقاب سے مختلف ہو تو یہ جائز ہو گا، مثلا سر سے نیچے کپڑا لٹکا لینا، شیڈ والی ٹوپی پہن کر اس پر کپڑا لٹکا لینا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
حدیث نمبر: 4248
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء سے روایت ہے وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو اس طرح دھو کر استعمال کرے کہ نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔
حدیث نمبر: 4249
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَخَّصَ فِیْ الثَّوْبِ الْمَصْبُوْغِ، مَا لَمْ یَکُنْ فِیْہِ نَفْضٌ وَلَارَدْعٌ)) … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی اس وقت رخصت دی، جب نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔‘‘
حدیث نمبر: 4250
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب محرم کو جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، لیکن ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ دے۔
حدیث نمبر: 4251
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: جب محرم کو چادر دستیاب نہ ہو تو وہ شلوار پہن سکتا ہے اور اسی طرح جب جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4252
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 4253
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْتَاعَ جَارِيَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ مَعَهُ فَابْتَغَى لَهَا نَعْلَيْنِ فَلَمْ يَجِدْهُمَا، فَقَطَعَ لَهَا خُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ شِهَابٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ ثُمَّ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع ، جن کی بیوی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھی، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر کے اس کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ حج کرے، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے جوتے تلاش کئے، لیکن وہ نہ ملے، اس لیے انہوں نے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: جب میں نے اس بات کا ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سالم نے اس کو بیان کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایسے ہی کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں جب صفیہ بنت ابی عبید نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتلایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کے لئے موزوں کی اجازت دیا کرتے تھے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل ترک کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ عورت دورانِ احرام پورے موزے پہن سکتی ہے، حدیث نمبر (۴۲۴۷) کی شرح میں مذکور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھییہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4254
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَأَخَّرَهُ، وَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو احرام کی حالت میں شدید سردی محسوس ہونے لگی، اس لیے انھوں نے کہا: مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو، میں نے ان کے اوپر کوٹ ڈال دیا،لیکن انہوں نے اسے ہٹا دیا اور کہا: تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو جس کو پہننے سے منع فرمایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … کپڑے کو اوپر ڈالنے سے پہننا تو لازم نہیں آتا۔
معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط کرتے ہوئے اپنے اوپر بھی کوٹ کر رکھنا پسند نہیں کیایا پھر انہوں نے سمجھا ہوگا کہ جن کپڑوں سے محرم کو روکا گیا ہے وہ کسی شکل میں بھی اس کے لیے استعمال کرنے جائز نہیں۔ بہرحال اصل میں تو پہننے سے ہی روکا گیا ہے، تاکہ ہر قسم کے استعمال سے۔ (عبداللہ رفیق)
معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط کرتے ہوئے اپنے اوپر بھی کوٹ کر رکھنا پسند نہیں کیایا پھر انہوں نے سمجھا ہوگا کہ جن کپڑوں سے محرم کو روکا گیا ہے وہ کسی شکل میں بھی اس کے لیے استعمال کرنے جائز نہیں۔ بہرحال اصل میں تو پہننے سے ہی روکا گیا ہے، تاکہ ہر قسم کے استعمال سے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 4255
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، مِنْهُمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ (وَفِي لَفْظٍ: وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ (وَفِي لَفْظٍ قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ) فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: ((أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟)) فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ، فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آؤ، چنانچہ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاں یہ زائل ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھی طرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مُقَطَّعَاتٌ‘‘ سے مرادسلے ہوئے کپڑے ہیں، صحیح مسلم کی روایت میں جبّہ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے، اس لیے ہم نے ترجمہ کرتے ہوئے جُبَّہ کا ذکر کر دیا ہے۔ ’’عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے جیسے حج میں طواف، سعی اور حجامت جیسے افعال کرتے ہو، اسی طرح عمرے میں بھی کرو، یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ حج کے احرام میں جن امور سے اجتناب کرتے ہو، عمرے کے احرام میں بھی ان سے اجتناب کرو۔
حدیث نمبر: 4256
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: ((اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں کے مذاق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بے علمی کی وجہ سے احرام کی حالت میں جُبّہ پہنا ہوا تھااور خوب زعفران لگائی ہوئی تھی، جبکہ یہ احکام دوسرے صحابہ کے لیے معروف تھے۔ حدیث نمبر (۴۱۶۱)میں اس حدیث سے متعلقہ احکام بیان کیے جا چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 4257
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی (حج کے سفر میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرایا اور وہ اس وجہ سے احرام کی حالت میں ہی فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے انہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … احرام کی حالت میں وفات پانے والے کے کتنے خوبصورت احکام بیان کیے جا رہے ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ یہ شخص مرنے کے بعد بھی محرِم ہے، اس پر مستزاد یہ کہ یہ جس حالت میں فوت ہوا، قیامت والے دن اسی حالت پر اٹھے گا اور اس پر حج کی علامت موجود ہو گی۔
حدیث نمبر: 4258
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِالزَّيْتِ غَيْرِ الْمُقَطَّرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھتے وقت ایسا تیل لگایا کرتے تھے، جو خوشبو والا نہیں ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس قسم کے تیل وغیرہ کی پابندی کوئی نہیں ہے۔