حدیث نمبر: 4233
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْ عَجَّابًا ثَجَّاجًا، وَالْعَجُّ التَّلْبِيَةُ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔
حدیث نمبر: 4234
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شَعَائِرِ الدِّينِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہ یہ دین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 4235
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 4236
عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُغْلِيَ بِالتَّلْبِيَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ تلبیہ بآواز بلند پڑھا جائے، اگرچہ جمہور نے ان اوامر کو استحباب پر محمول کیا ہے۔