حدیث نمبر: 4229
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ فِي حَجِّهِ أَوْ حَجَّتِهِ))، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔
حدیث نمبر: 4230
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ، وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ یہ ملعون عرب کا کوئی مشرک ہو، ایام حج سے مراد وہ دن ہیں، جن میں تلبیہ کہا جاتا ہے، اگلے باب میں ان کی وضاحت کی جائے گی۔ زینت کو مٹانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) تلبیہ کے کلمات کو کلی طور پر ترک کر دیا تھا، (۲) تلبیہ میں شرکیہ الفاظ داخل کر دیئے تھے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ یوں تلبیہ کہتے تھے: ’’لَبَّیْکَ،لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔‘‘
حدیث نمبر: 4231
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔
حدیث نمبر: 4232
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِيَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، أَوْ بِالْإِهْلَالِ يُرِيدُ أَحْدَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔