حدیث نمبر: 4220
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ))، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: وَزِدْتُ أَنَا لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ … )) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس تلبیہ میں میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کرتا ہوں: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ)) (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور میں حاضر ہوں، اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے اور رغبت اور عمل بھی تیری طرف ہے۔)
وضاحت:
فوائد: … ’’لَبَّیْکَ‘‘یہ لفظ تثنیہ ہے اور ’’کَ‘‘ ضمیر کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے نونِ تثنیہ گر گیا ہے اور یہ باب ’’لَبَّ یَلُبُّ‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی ہیں: قیام کرنا، برقرار رہنا، حاضر ہونا،جم جانا۔ تثنیہ دو چیزوں کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن ’’لَبَّیْکَ‘‘ میں تثنیہ دو کے لیے نہیں، بلکہ تاکید، تکثیر اور مبالغہ کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی اے میرے اللہ! میں تیرے سامنے بار بار حاضر ہوں، مسلسل مقیم و موجود ہوں اور تیری اطاعت کو چمٹا ہوا ہوں۔ یہی معاملہ ’’سَعْدَیْکَ‘‘ کا ہے، البتہ اس کے معانییہ ہیں: ((مُسَاعَدَۃً لِطَاعَتِکَ بَعْدَ مُسَاعَدَۃٍ)) اور ’’مُسَاعَدَۃً‘‘ کے معانی مدد، امداد، تقویت اور سہارے کے ہیں۔
قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس تلبیہ کی تعلیم دی، اس کے مخصوص الفاظ آپ کے سامنے ہیں، سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جن الفاظ کی زیادتی کی تھی، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کو نامکمل اور ناکافی سمجھ رہے تھے جبکہ شریعت کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ محرِم حالت ِ احرام میں صرف وہی اذکار کرتا رہے، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً تعلیم دی ہے،دراصل بات یہ ہے کہ محرِم اپنے آپ کو ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پابند سمجھتا ہے، بسا اوقات وہ اپنی طبع کے مطابق اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو مناسب سمجھتا ہے، یہی معاملہ یہاں ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسنون تلبیہ کے پابند تھے اور وہ یہ تلبیہ پڑھنے کے بعد اپنے الفاظ بھی دوہرا دیتے تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم لوگ تلبیہ کہنے کے بعد اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالی کی شان بیان کرنا اور دعا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حدیث نمبر (۴۱۲۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلبیہ کے الفاظ میں ’’ذَا الْمَعَارِج‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔
قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس تلبیہ کی تعلیم دی، اس کے مخصوص الفاظ آپ کے سامنے ہیں، سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جن الفاظ کی زیادتی کی تھی، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کو نامکمل اور ناکافی سمجھ رہے تھے جبکہ شریعت کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ محرِم حالت ِ احرام میں صرف وہی اذکار کرتا رہے، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً تعلیم دی ہے،دراصل بات یہ ہے کہ محرِم اپنے آپ کو ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پابند سمجھتا ہے، بسا اوقات وہ اپنی طبع کے مطابق اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو مناسب سمجھتا ہے، یہی معاملہ یہاں ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسنون تلبیہ کے پابند تھے اور وہ یہ تلبیہ پڑھنے کے بعد اپنے الفاظ بھی دوہرا دیتے تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم لوگ تلبیہ کہنے کے بعد اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالی کی شان بیان کرنا اور دعا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حدیث نمبر (۴۱۲۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلبیہ کے الفاظ میں ’’ذَا الْمَعَارِج‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ))، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں بالوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز لگائی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، … )) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)
حدیث نمبر: 4222
عَنِ الضَّحَّاكِ (بْنِ مُزَاحِمٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
حدیث نمبر: 4223
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، (فَذَكَرَ مِثْلَ الطَّرِيقِ الْأُولَى ثُمَّ قَالَ) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَهِ إِلَيْهَا، فَإِنَّهَا تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب تلبیہ پکارتے تو یوں کہتے: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ … ـــ (پہلی سند والا تلبیہ ذکر کیا)، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان ہی الفاظ پر رک جاؤ، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلبیہ ہے۔
حدیث نمبر: 4224
عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي تَقُولُ: لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوعطیہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں خوب جانتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ کیسے پکارتے تھے۔ ابوعطیہ نے کہا: پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ ))
حدیث نمبر: 4225
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ))
حدیث نمبر: 4226
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارا تھا، پھر جب میں نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، بعد میں جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: دراصل تم لوگ ہمیں صرف بچے ہی سمجھتے ہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود اس طرح تلبیہ کہتے ہوئے سنا تھا: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا))(میں حاضر ہوں عمرہ کے لیے اور حج کے لیے)۔
وضاحت:
فوائد: … لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا، لَبَّیْکَ عُمْرَۃً اور لَبَّیْکَ َحَجًّا کے الفاظ ابتدائے احرام کے وقت کہہ کر ارادے کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے بعد دورانِ احرام بھی کہے جا سکتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا انس دونوں کی باتیں صحیح ہیں، دراصل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 4227
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلْمَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَذُو الْمَعَارِجِ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَقُولُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ‘ ‘(اے بلندیوں والے! میں حاضر ہوں)،یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی اللہ تعالیٰ بلندیوں والا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس قسم کے الفاظ نہیں کہتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن ’’لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِج‘‘ کے الفاظ درست ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۱۲۳) میں یہ بات گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 4228
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک دن احرام کی حالت میں تلبیہ پکارتا رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو گا جیسے وہ اس دن تھا، جس دن کو اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے صرف تلبیہ کے الفاظ کا پتہ چلا، مزید احکام کا بیان اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔ تلبیہ کی فضیلت درج ذیل احادیث سے ثابت ہوتی ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا أَھَلَّ مُھِلٌّ قَطُّ إِلَّابُشِّرَ، وَلَا کَبَّرَ مُکَبِّرٌ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ۔)) قِیْلَ: بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) … ’’نہیں ہے کوئی تلبیہ پڑھنے والا، جو تلبیہ پڑھے، مگر اس کوبشارت دی جاتی ہے اور نہیں ہے کوئی تکبیر کہنے والا، جو تکبیر کہے، مگر اس کو بھی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔‘‘ کہا گیا: کیا جنت کی خوشخبری؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (معجم اوسط: ۷۹۴۳، صحیحہ:۱۶۲۱) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبِّی اِلّا لَبّٰی مَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَشِمَالِہِ، مِن حَجَرٍ اَوْ شَجَرٍ اَوْ مَدَرٍ، حَتّٰی تَنْقَطِعَ الْاَرْضُ مِنْ ھٰھُنٰا وَ ھٰھُنٰا۔)) … ’’ جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تواس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر، درخت اور کنکریاں سب لبیک پکارتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۲۱)