حدیث نمبر: 4186
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ، ثُمَّ لَبَّى قَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4187
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ فِيهِ يُحَرِّمُهُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أُمْسِكَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … زخم کو داغنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے، کیونکہیہ توکل اور ایمان کے اعلی درجے کے منافی ہے، اسی کراہت کی بنا پر فرشتوں نے سلام کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4188
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ ( میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔
حدیث نمبر: 4189
عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِيلَ لَهُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ، فَقِيلَ لَهُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاهِدْ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صَوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَا: لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ أَوْ مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: حَدَّثَكَ الصُّبَيُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن اس مقام پر اس عمل کو سنت کہہ رہے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعض مصلحتوں کی بنا پر اس کوجائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4190
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دو معانی ہو سکتے ہیں: (۱) حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں اس چیز کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ (۲) حج قران کرنا، جس میں حج کے افعال میں عمرہ داخل ہو جاتا ہے اور ایک طواف اور ایک سعی حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4191
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، يَقُولُ: ((أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ))، قَالَ الْوَلِيدُ، يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام ) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وادیٔ عقیق سے مراد ذوالحلیفہ ہے، جو کہ اہل مدینہ کی میقات ہے، برکت کی وجوہات کا علم اللہ تعالی کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وادی جو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس سے مراد نماز فجر ہے۔
حدیث نمبر: 4192
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوں اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 4193
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا عَلِيٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ جن خلفاء نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ حج کے لیے علیحدہ سفر کریں اور عمرے کے لیے علیحدہ، تاکہ وہ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جبکہ ان کو علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موسم میں عمرہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا، سنن نسائی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو منع نہ کیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تمتع کرتے نہیں سنا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔
اگلی حدیث اس معاملے میں زیادہ واضح ہے، جس کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اس حکم کو اپنی ذاتی رائے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، جو چاہے اس کو اپنا لے اور جو چاہے اس کو ترک کر دے۔
اگلی حدیث اس معاملے میں زیادہ واضح ہے، جس کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اس حکم کو اپنی ذاتی رائے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، جو چاہے اس کو اپنا لے اور جو چاہے اس کو ترک کر دے۔
حدیث نمبر: 4194
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ! إِنَّا لَمَعَ عُثْمَانَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجُحْفَةِ، وَمَعَهُ رَهْطُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ، إِذْ قَالَ عُثْمَانُ وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِنَّ أَتَمَّ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَنْ لَا يَكُونَا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ فِي الْخَيْرِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي يَعْلِفُ بَعِيرًا لَهُ فَبَلَغَهُ الَّذِي قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَعَمَدْتَ إِلَى سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا لِلْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ، تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا وَتَنْهَى عَنْهَا وَقَدْ كَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا؟ إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ رَأْيًا أَشَرْتُ بِهِ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حجفہ کے مقام پر تھے، آپ کے ساتھ اہل شام کا ایک قافلہ بھی تھا، اس میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر کیا گیا،پس انھوں نے کہا: یہ دونوں عمل حج کے مہینوں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کا خیال تھا کہ تم لوگ اس عمرہ کو مؤخر کر دو اور تم دو بار بیت اللہ کی زیارت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب مال و دولت میں وسعت دے دی ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ وادی میں اپنے اونٹ کو چرا رہے تھے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں بندوں کو دی ہوئی سہولت اور رخصت کو ختم کرکے ان پر تنگی کرنا چاہتے ہیں اور ثابت شدہ عمل سے انہیں روکنا چاہتے ہیں؟یہ رخصت حاجت مندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ بعد ازاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں نے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا،یہ تو میری ایک رائے تھی، جس کا میں نے اظہار کیا، اب جو چاہتا ہے، وہ اسے اختیار کر لے اور جو چاہتا ہے، وہ اسے ترک کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ عہد ِ نبوی کی بہ نسبت خلفائے راشدین کے دور میں مختلف اسباب کی بنا پر مال و دولت میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہو گئی تھی، اس لیےیہ خلفائے کرام چاہتے تھے کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج و عمرہ ادا کر کے مطمئن نہ ہو جائیں، بلکہ حج کے الگ سے سفر کریں اور عمرہ کے الگ سے، اس طرح سے ان خلفاء پر کوئی طعن نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کا مقصد نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مخالفت نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ لوگ زیادہ نیکیاں حاصل کر لیں، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو گنجائش دی تھی، وہ برقرار ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کتنی خوبصورت بات کی ہے کہ انھوں نے حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنے سے منع نہیں کیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت دے چکے تھے، وہ تو دراصل لوگوں کو یہ مشورہ دینا چاہتے تھے کہ اب حج کے موقع پر صرف حج کر لو اور بعد میںعمرہ کے لیے نیا سفر کر کے آنا، تاکہ دو عبادتوں کے لیے دو مستقل سفر ہوں اور اجر و ثواب میں اضافہ ہو۔
حدیث نمبر: 4195
عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ))، قَالَ: وَهِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبَّى بِالْحَجِّ وَلَبَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بتائی تو وہ کہنے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی ابتدائی حالت پر محمول کیا جائے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بات کو احرام کی آخری اور درمیانی حالت پر محمول کیا جائے، جو صورت سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں، اس کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم نہیں تھا، جس کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بڑا معقول جواب دیا۔
حدیث نمبر: 4196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں جمع کیا، اس کو ان دونوں کے لئے ایک طواف کافی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ حج قران کرنے والے کے لیے حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 4197
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ، وَقَالَ: ((إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں اس اندیشہ کی وجہ سے جمع کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا جائے، پھر انھوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر حج نہ ہو سکا تو عمرہ تو کر لیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے اور اس کے ان الفاظ کی سمجھ آ رہی ہے نہ کسی مناسبت کا پتہ چل رہا ہے، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع ادا کر رہے تھے، اس وقت روک دیے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالی نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا تھا، مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا،ایک سال پہلے ایام حج میں یہ اعلان کیا جا چکاتھا کہ آئندہ کوئی مشرک اور ننگا آدمی طواف نہیں کر سکے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چالیس ہزار کے لگ بھگ صحابہ موجود تھے۔ بہرحال ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کسی گمان کی وجہ سے یہ الفاظ کہہ دیئے ہوں، یا ان سے نیچے کسی راوی سے کوئی غلطی ہو گئی ہو، جبکہ سند بھی ضعیف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران ادا کیا تھا، خلفائے راشدین کو یہ علم تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے، اس کے باوجود انھوں نے یہ رائے دی تھی سفرِ حج میں صرف حج ادا کیا جائے اور بعد میں عمرہ کی ادائیگیکے لیے از سرِ نو سفر کیا جائے، تاکہ اجر و ثواب زیادہ ملے، ان کی اس رائے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالی نے مال و دولت جیسے اسباب عطا کر دیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں حجۃ الوداع کے موقع پر چالیس ہزار کی تعداد کا ذکر کیا ہے، جبکہ الرحیق المختوم اور رحمۃ للعالمین اور دیگر سیرت نگاروں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیسیا چوالیس ہزار ذکر کی ہے۔ (عبد اللہ رفیق)
حدیث نمبر: 4198
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعَمِلْنَا بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُهَا، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حنین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔
وضاحت:
فوائد: … حج تمتع کی آیت سے مراد قرآن مجید کے یہ الفاظ ہیں:{فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ} … ’’(پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو) جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کر لے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶)
حدیث نمبر: 4199
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ، الضُّبَعِيَّ قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْهَدْيِ: جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوں نے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکری یا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4200
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ، وَعُثْمَانُ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْهُ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تراشے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکنیہ دو باتیں درست ہیں کہ سیدنا معاویہ حج کے مہنیوں میں عمرے سے منع کرتے تھے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا موقع تھا کہ جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاتے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ بال کاٹنے کا یہ واقعہ مروہ پر پیش آیا تھا اور اس میں تقصیر کی گئی تھی، جبکہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (۱۰) ذوالحجہ کو منی میں سر منڈوایا تھا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرۂ جعرانہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، عمرۂ قضا کے موقع پر تو وہ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں’’لِحَجَّتِہٖ‘‘ کے الفاظ شاذ ہیں۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ وہ حجۃ الوداع کا موقع ہی نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قبل خلفائے راشدین حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے منع بھی کرتے تھے، لیکن اس کی گنجائش بھی دیتے تھے، منع کرنے کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں، رہا مسئلہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تو ممکن ہے کہ ان کا منع کرنا بھی اسی نوعیت کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موضوع سے متعلقہ مرفوع روایات کا علم نہ ہونے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کا لحاظ کرنے کی وجہ سے انھوں نے سختی سے منع کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 4201
عَنْ غُنَيْمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ: فَعَلْنَاهَا وَهَذَا كَافِرٌ بِالْعُرُشِ، يَعْنِي مُعَاوِيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں تمتع سے مراد۷ھ والا عمرۂ قضاء ہے، اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مقیم جاہلیت کی حالت میں تھے، وہ ۸ھ میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب جعرانہ اور حجۃ الوداع والا عمرہ کیا تو اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مکہ میں مقیم بھی نہ تھے۔ ’’عُرُش‘‘ سے مرادمکہ مکرمہ کے گھر ہیں، لغوی اعتبار سے یہ لفظ ’’عَرِیْش‘‘ کی جمع ہے، جس کے معانی سایہ دار چیز جیسے شامیانہ، چھپر، سائبان اور شیڈ کے ہیں، چونکہ مکہ مکرمہ میں زیادہ تر اسی قسم کے گھر نظر آتے تھے، اس لیے اس شہر کو ’’عُرُش‘‘ کہہ دیا گیا۔ بعض نے اس لفظ کو ’’بِالْعَرْش‘‘ پڑھا، اس سے مراد اللہ تعالی کا عرش ہے، اس سے مقصود بھی کفر ہی ہے۔
حدیث نمبر: 4202
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تھا، یہ دونوں حج تمتع کا ذکر کر رہے تھے، ضحاک نے کہا: وہی آدمی یہ حج کرے گا، جو اللہ تعالی کے حکم سے جاہل ہو گا۔یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، آگے سے سیدنا ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے منع کیا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواباًکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے آپ کی معیت میں حج تمتع کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر حج تمتع سے اس کی اصطلاحی تعریف مراد لی جائے، یعنی عمرہ کر کے حلال ہو جانا اور پھر بعد میں از سرِ نو حج کا احرام باندھنا، تو اس حدیث کا معنییہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج تمتع کرنے کی اجازت دی تھی، اور رئیس کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو اس کو عملی طور پر بھی اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زانی کو رجم کیا اور چور کا ہاتھ کاٹا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کام خود اپنے ہاتھ سے انجام نہیں دیئے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف حکم دیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ} (فرعون نے اپنی قوم میں آواز دی)، اس کا معنییہ ہے کہ فرعون کے حکم سے آواز دی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 4203
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَانْتَهَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح متعہ: کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کرنا۔ یہ نکاح عہد ِ نبوی میں ہی حرام ہو گیا تھا اور اس کی حرمت پر مسلمانوں پر اتفاق ہے، مگر بعض لوگوں کو اس کی حرمت کا علم نہ ہو سکا اور وہ اسے حسب ِ سابق جائز سمجھتے رہے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں سرکاری اعلان کے ذریعے اس کی حرمت کا دوبارہ اعلان کر دیا، لیکن جن لوگوں کو ساری تفصیل کا علم نہیں تھا، انھوں نے یہ سمجھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی اس نکاح کو حرام قرار دیا ہے، نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔ حج تمتع کا جائز ہونا بھی اتفاقی مسئلہ ہے، پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس سے منع کرنے کا کیا مطلب ہے۔
حدیث نمبر: 4204
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابَهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا بِهِنَّ مُعْرِسِينَ فِي الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: ذرا اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ،کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے مناسک ِ حج کے بارے میں کیا حکم جاری کیا ہے۔ بعد میں سیدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے حج تمتع کیا ہے، مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ لوگ رات کو اَرَاک درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور پھر جب حج کے لئے روانہ ہوں تو ان کے سروں سے غسل کے پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔
حدیث نمبر: 4205
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْمُتْعَةَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ يُعْرِسُوا بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِهِنَّ حُجَّاجًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو پابندی لگائی تھی، اس کی وجہ بیان کر دی، بہرحال یہ چیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو طبعی طور پر ناگوار گزرتی تھی، وگرنہ شرعی احکام کی روشنی میں جب میاں بیوی احرام کی حالت میں نہ ہوں تو وہ حق زوجیت ادا کر سکتے ہیں،یہ حج و عمرہ کے احرام سے پہلے ہو یا کسی اور وقت۔
حدیث نمبر: 4206
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْلَكُمْ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ، إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا أَمْ سُنَّةُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتباع کے زیادہ حق دار ہیں یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں: ایک شامی باشندے نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حج کے ساتھ عمرہ کر لینے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ایسا کرنا درست ہے۔ شامی نے کہا: آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس بارے تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میرے باپ ایک چیز سے منع کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے عملاً کیا ہے تو میرے باپ کے حکم کی پیروی کی جائے گییا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی؟ اس آدمی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کی جائے گی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ کام کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4207
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: عَلَى يَدَيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الرَّسُولُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ الْحَجِّ وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں۔‘‘اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور واجب الاتباع ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بولنے کا دارومدار بھی وحی پر ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو قسم کے متعے جائز اور رائج تھے، اب ان کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج تمتع کیا تھا، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے توا نھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالی اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے، حلال کر دیتا ہے اور بیشک قرآن مجید بھی اپنی منازل پر نازل ہوا، {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} … ’’اور حج اور عمرے کو اللہ تعالی کے لیے پورا کرو۔‘‘ جیسے اللہ تعالی نے تم کو حکم دیا ہے، اور ان عورتوں کے اس نکاح کو ختم کر دو، جس نے کسی عورت کے ساتھ مقررہ مدت تک یہ نکاح کیا تو میں اس کو پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ (صحیح مسلم)نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔
حدیث نمبر: 4208
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ (بْنُ كَعْبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر واقعی وہ کپڑا پیشاب میں رنگا جاتا تھا تووہ اس وقت تک ناپاک رہے گا، جب تک اس پر پیشاب کے اثرات باقی رہیں گے، جب اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسی صورت کپڑے کو جس رنگ میں رنگا جائے گا، وہ رنگ ناپاک نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 4209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنَا مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وادیٔ عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دلیل انتہائی مضبوط تھی، کیونکہ انھوںنے مقابلے میں جواز یا عدم جواز کی بات نہیں کی، بلکہ براہِ راست یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود جو کام سرانجام دیتے تھے، اے عثمان! تم اس سے کیوں منع کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 4210
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَنَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: وَمَا عَلِمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِهَذَا؟ فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا، وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهِ! لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللَّهِ! صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ چند ابواب پہلے اس باب میں گزر چکی ہے: ’’حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان‘‘ اس باب کی دوسری حدیث دیکھیں۔ ’’انھوں نے نامناسب بات کی ہے۔‘‘ اس سے ان کی مراد دو باتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے: (۱) اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء سے پوچھ لے، اس کے نامناسب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے حق زوجیت ادا کیا ہو گا، جبکہ اس طرح کا اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔ (۲)اس بات سے یہ سمجھ آ رہی ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بھی حلال ہو گئے تھے، جبکہ وہ حلال نہیں ہوئے تھے، دیکھیں حدیث نمبر(۴۲۱۳)۔
حدیث نمبر: 4211
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْقُرِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوں نے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 4212
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ سُئِلُوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالُوا: نَعَمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمُ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔
حدیث نمبر: 4213
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُتِمَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ) وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ))، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میں رہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی یعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟
وضاحت:
فوائد: … سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چونکہ احرام کی حالت میں تھے، جبکہ ان کی بیوی حلال ہو چکی تھی، اس لیے انھوں نے احتیاط کرتے ہوئے اپنی بیوی کو دور ہو جانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 4214
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ))، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج مفرد کیا تھا۔ اس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔ (دیکھیں حدیث۴۱۸۲ کے فوائد)
حدیث نمبر: 4215
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا))، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ))، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ((هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ))، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آؤں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’ اور عمرے کو ترک کر دو‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ عمرہ کے افعال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دو اور حج قران کا تلبیہ شروع کر دو۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حلال ہو جائیں اور پھر احرام باندھیں۔ ’’یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔‘‘ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسری امہات المؤمنین اور بعض صحابہ کی طرح حج تمتع کرتے ہوئے جو عمرہ الگ سے کرنا تھا، یہ عمرۂ تنعیم اس کا متبادل ہے، وگرنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا۔ اس حدیث کے آخر سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ حج قران کرنے والوں کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ایسے حجاج کے لیے بھی دو طوافوں کے قائل ہیں، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔