کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: … حج افراد کا بیان
حدیث نمبر: 4181
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو بیت اللہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال نہ کٹوائے اور قربانی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہ ہوئے اور جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کے بعد بال منڈا کر یا کٹوا کر حلال ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4181
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3128»
حدیث نمبر: 4182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ))، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج سے قبل عمرہ کرنا پسند کرتا ہو وہ عمرہ کر سکتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرہ کیا تھا، تو پھر اس حدیث میں اس امر کا کیا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا، حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۳/ ۴۲۹ میں) جمع تطبیق کییہ صورت پیش کی: جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حج افراد نقل کیا، اس کی بات کو ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے تلبیہ پر محمول کیا جائے گا، جس نے حج تمتع کی بات کی، اس کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کو دیا جانے والا حکم ہے اور جس نے حج قران کی بات کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر میں پیش آنے والا عمل بیان کیا۔ بہرحال جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے حج قران کی بات کرتا ہے، اس کی بات مقبول ہو گی، کیونکہ اس کے پاس زیادہ علم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4182
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر، وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة روي عنها راويان، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
حدیث نمبر: 4183
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حِلُّوا وَجْعَلُوهَا عُمْرَةً)) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اور صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز نہیں تھی، لیکن جب ہم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہو جاؤ اور اس کو عمرہ بنا دو، … ۔ الحدیث
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، ومسلم: 1216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14462»
حدیث نمبر: 4184
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4184
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14433»
حدیث نمبر: 4185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حج افراد کی مشروعیت واضح ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران ہی کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5719»