کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: احرام میں شرط لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 4169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ؟ قَالَ: ((أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي))، قَالَ: فَأَدْرَكَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3117»
حدیث نمبر: 4170
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ فَأَشْتَرِطَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: ((قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27570»
حدیث نمبر: 4171
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: ((أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا؟)) وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَأَخْشَى أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ، قَالَ: ((فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیمار ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27125»
حدیث نمبر: 4172
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیمار بھی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جاؤ اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4172
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5089، ومسلم: 1207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25822»
حدیث نمبر: 4173
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ! مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: ((حُجِّي وَاشْتَرِطِي))، فَقَالَ: ((قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي))، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26178»
حدیث نمبر: 4174
عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: أَمَا حَسْبُكُمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ احرام کے دوران کسی مانع یا رکاوٹ کے خدشہ کے پیش نظر احرام سے حلال ہونے کی شرط لگا لینا جائز ہے، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا جابر، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر کا یہی موقف تھا، نیز بہت سارے تابعین اور امام احمدبھی اسی نظریے کے قائل تھے، البتہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ تھی کہ اس قسم کی شرط لگانا درست نہیں ہے، لیکنیہ رائے مرجوح ہے۔ جب حج وعمرہ کرنے والے شخص کو کسی بیمارییا طوفان یا سیلابیا دشمن یا کسی اور وجہ سے اس طرح روک دیا جائے کہ اس سے حج و عمرہ فوت ہو جائے تو ان تمام صورتوں کو احصار اور ایسے شخص کو مُحْصَر کہتے ہیں۔ ایسا شخص اسی مقام اپنا سر منڈوائے اور قربانی کرے اور احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس باب کی احادیث کے مطابق مشروط احرام باندھتا ہے اور پھر واقعی کوئی رکاوٹ پیش آ جاتی ہے تو مُحْصَر کی طرح اس پر قربانی وغیرہ لازم نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4881»