کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 4164
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ، وَتُحْرِمُ، وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’نفاس اور حیض والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے گی ، پھر وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام مناسک ادا کرے گی ، جب وہ پاک ہو جائے گی تو تب بیت اللہ کا طواف کرے گی ۔‘‘
وضاحت:
فوائد: … حیض اور نفاس والی عورت کا احرام باندھتے وقت غسل کرنا، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ یہ غسل صرف صفائی ستھرائی کے لیے ہے، اس سے حیض اور نفاس کے احکام میں کوئی فرق نہیں آئے گا، یہ غسل مستحبّ ہے۔
حدیث نمبر: 4165
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِالْبَيْدَاءِ فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) بیداء کے مقام پر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو جنم دیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو حکم دو کہ وہ غسل کرکے احرام باندھ لیں۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم وغیرہ کی کئی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کا بچہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پیدا ہوا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ یہ ولادت درخت کے پاس ہوئی تھی، جبکہ یہ تینوں مقامات ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، درخت ذوالحلیفہ میں تھا اور ذوالحلیفہ کے ساتھ متصل ایک اونچے مقام کا نام بیداء ہے۔ قاضی عیاض نے کہا: ممکن ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا لوگوں سے دور ہونے کے لیے بیداء مقام میں چلی گئی ہوں، لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ میں اترے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مقام میں رات گزاری تھی، اس لیے سب لوگوں کی منزل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزل کی طرف منسوب کیا گیا۔
حدیث نمبر: 4166
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّكِ نَفِسْتِ، يَعْنِي حِضْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: کاش کہ میں اس سال حج کے لئے نہ آئی ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے، اب تم وہ تمام امور سر انجام دو جو دوسرے حجا ج کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو، جب تک پاک نہ ہو جاؤ، … ۔ الحدیث
حدیث نمبر: 4167
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ))، فَفَعَلْتُ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے مجھے حیض آ گیا اور وہ جاری رہا، حتی کہ عرفہ والا دن آنے والا ہو گیا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کو رہنے دو اور سر کھول کر کنگھی کر لو اور غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا … ۔ الحدیث۔
حدیث نمبر: 4168
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا: ((مَا لَكِ تَبْكِينَ؟)) قَالَتْ: أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ، وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: ((إِنَّ هَذَا أَمْرٌ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي))، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَلَمَّا طَهُرَتْ قَالَ: ((طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ))، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: ((فَاذْهَبْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَكَ مِنَ التَّنْعِيمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے، رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے ، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جاؤ گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبد الرحمن! جاؤ اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کودورانِ احرام حج کے لیے از سرِ نو غسل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے، تاکہ طبعی تازگی اور عمل کی مزید اہمیت پیدا ہو جائے۔ حیض اور نفاس والی خواتین عام دوسری خواتین و حضرات کی طرح احرام باندھ کر حج وعمرہ کے تقاضوں کو پورا کریں گے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ پاک ہونے تک بیت اللہ کے طواف کو مؤخر کر دیں گی۔