حدیث نمبر: 4156
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخَطْمِيٍّ وَأُشْنَانٍ وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خطمی بوٹی اور اُشنان گھاس سے اپنا سر دھوتے اور سر پر کچھ زیتون کا تیل بھی لگاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … احرام باندھتے وقت غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھنے کے لیے علیحدہ ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی: ۸۳۰)
حدیث نمبر: 4157
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ (وَفِي لَفْظٍ: بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ) بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِينَ أَحْرَمَ وَحِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ (وَفِي لَفْظٍ: قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حجۃ الوداوع کے موقع پر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت مختلف اشیاء سے بنی ہوئی خو شبو لگائی تھی،یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھنے لگے تو اس وقت لگائی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں تو اس وقت خوشبو لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 4158
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو (یعنی کستوری)۔
حدیث نمبر: 4159
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: گویا میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر لگی ہو کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں ہوتے۔
حدیث نمبر: 4160
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: فِي مَفَارِقِهِ) وَهُوَ يُلَبِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ پڑھ رہے ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … ترجمہ میں صرف مفرد لفظ ’’مفرق‘‘ کا لحاظ رکھا گیا ہے جبکہ ایک روایت میں مفارق کا لفظ ہے جو مفرق کی جمع ہے یہ سر کی مختلف جہتوں کا لحاظ کر کے بول دیا گیا ہے۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 4161
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ، وَهُوَ عَلَيْهِنَّ، يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلضِّمَاد‘‘ یہ لفظ اصل میں اس پٹی کے لیے وضع کیا گیا ہے جو زخمی عضو پر باندھی جاتی ہے، پھر اس زخم پر دوا وغیرہ لگانے کے معنی میں استعمال کیا گیا، بعد ازاں بطورِ استعارہ اس کو ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا، جو جسم پر رکھی جاتی ہے، وہ دوا ہو یا خوشبو یا کوئی اور چیز، اس حدیث میں خوشبو مراد ہے۔ سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((کُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلٰی مَکَّۃَ فَنْضْمِدُ جِبَاھَنَا بِالسُّکِّ الْمُطَیَّبِ عِنْدَ الْاِحْرَامِ، فَاِذَا عَرَقَتْ اِحْدَانَا سَالَ عَلٰی وَجْھِھَا فَیَرَاہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَلَا یَنْھَانَا)) … جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتی تھیں تو ہم احرام باندھتے وقت مشک ملی ہوئی ایک قسم کی خوشبو اپنی پیشانیوں پر ملتی تھیں، جب کسی کو پسینہ آتا تھا تو وہ اس کے چہرے پر بہہ پڑتی تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے اور منع نہیں کرتے تھے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے اس طرح خوشبو لگانا جائز ہے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، وہ اثر خوشبو کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور خوشبو کے وجود کے برقرار رہنے کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں محرم کو خوشبو کا اثر دور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے: سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم جعرانہ مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے جبّہ پہنا ہوا تھا اور ’’خلوق‘‘ خوشبو لگائی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عمرے کے لیے کیا کچھ کرنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ اَثَرَ الْخَلُوْقِ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔)) … ’’تو یہ جبّہ اتار دے، اس ’’خلوق‘‘ خوشبو کا اثر دھو دے اور جیسے تو حج میںکرتا تھا، اس طرح عمرے میں کر۔‘‘
خلوق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔
اعتراضیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیا؟ اس اعتراض کے تین جوابات ممکن ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوشبولگانے کا عمل۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا، جبکہ جعرانہ مقام کی بات کا تعلق ۸ھ سے ہے، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری عمل خوشبو لگانا ہے اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔
۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دھو دینے کا حکم دیا ہو، اس تطبیق سے تمام احادیث ِ مبارکہ پر عمل ہو جائے گا، لیکن حدیث نمبر (۴۲۵۵) سے پتہ چلتا ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔
۳۔ اس خوشبو میں زعفران تھی، جس کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، حدیث نمبر (۴۲۴۴) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کے لباس کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ’’محرِم وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔‘‘
لیکن احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا حرام ہے، اس کی وضاحت ’’محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان‘‘ کے تحت پہلے باب میں آئے گی۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے اس طرح خوشبو لگانا جائز ہے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، وہ اثر خوشبو کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور خوشبو کے وجود کے برقرار رہنے کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں محرم کو خوشبو کا اثر دور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے: سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم جعرانہ مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے جبّہ پہنا ہوا تھا اور ’’خلوق‘‘ خوشبو لگائی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عمرے کے لیے کیا کچھ کرنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ اَثَرَ الْخَلُوْقِ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔)) … ’’تو یہ جبّہ اتار دے، اس ’’خلوق‘‘ خوشبو کا اثر دھو دے اور جیسے تو حج میںکرتا تھا، اس طرح عمرے میں کر۔‘‘
خلوق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔
اعتراضیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیا؟ اس اعتراض کے تین جوابات ممکن ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوشبولگانے کا عمل۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا، جبکہ جعرانہ مقام کی بات کا تعلق ۸ھ سے ہے، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری عمل خوشبو لگانا ہے اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔
۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دھو دینے کا حکم دیا ہو، اس تطبیق سے تمام احادیث ِ مبارکہ پر عمل ہو جائے گا، لیکن حدیث نمبر (۴۲۵۵) سے پتہ چلتا ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔
۳۔ اس خوشبو میں زعفران تھی، جس کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، حدیث نمبر (۴۲۴۴) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کے لباس کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ’’محرِم وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔‘‘
لیکن احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا حرام ہے، اس کی وضاحت ’’محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان‘‘ کے تحت پہلے باب میں آئے گی۔
حدیث نمبر: 4162
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقَالَ: مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَقَالَ: مِنْكَ لَعَمْرِي، فَقَالَ: طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ، وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَغَسَلَتْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ذوالحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی اور پوچھا: یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! مجھ سے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری زندگی کی قسم! تم سے آ رہی ہے،انھوں نے کہا: مجھے تو ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ خوشبو لگائی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے احرام باندھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی خوشبو لگائی تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ اور اس کو قسم دوکہ وہ اس کو ہر صورت میں دھو ڈالے، پھر وہ سیدہ کی طرف گئے اور انھوں نے اس کو دھو ڈالا۔
حدیث نمبر: 4163
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن منتشر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر میں گندھک مل لوں، تو یہ مجھے خوشبو لگانے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات بھی ان کو بتائی، تو سیدہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو احرام باندھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عثمان احرام سے پہلے بھی اس طرح خوشبو لگانے کے قائل نہیں تھے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، لیکن اس باب کے شروع میں مذکورہ احادیث اور ان کی شرح کا تقاضا یہ ہے کہ اس انداز میں خوشبو لگانا جائز ہے۔