کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
حدیث نمبر: 4129
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَقَالَ نَافِعٌ، كَانَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ (وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ) حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّسُ بِهَا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4130
قَالَ مُوسَى (وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ) أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4131
قَالَ: وَقَالَ: (حَدَّثَنَا نَافِعٌ) أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِيرِ الَّذِي دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي يُشْرِفُ عَلَى الرَّوْحَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔
حدیث نمبر: 4132
قَالَ: (وَقَالَ: نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةٍ ضَخْمَةٍ دُونَ الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ فِي مَكَانٍ بَطْحٍ سَهْلٍ حَيْثُ يُفْضِي مِنَ الْأَكَمَةِ دُونَ بَرِيدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيلَيْنِ، وَقَدِ انْكَسَرَ أَعْلَاهَا وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادی یا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔
حدیث نمبر: 4133
(وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ عَلَى رَأْسِ خَمْسَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْعَرْجِ فِي مَسْجِدٍ إِلَى هَضْبَةٍ، عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، عَلَى الْقُبُورِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَةٍ عَلَى يَمِينِ الطَّرِيقِ عِنْدَ سَلِمَاتِ الطَّرِيقِ، بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلِمَاتِ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیں ہیں، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4134
(وَقَالَ نَافِعٌ): إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَةٍ (وَفِي لَفْظٍ: سَرَحَاتٍ) عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَى، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لَاصِقٌ عَلَى هَرْشَى، (وَفِي لَفْظٍ: لَاصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَا) بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةِ سَهْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ کی داہنی جانب ھرشا سے ہٹ کر پانی کی گزر گاہ میں ایک بڑے درخت کے پاس قیام فرمایا، پانی کی یہ گزر گاہ ھرشا سے متصل ہے۔ (ایک روایت کے مطابق ہرشا کے کنارے کے ساتھ مل گئی ہے) اس کے اور راستہ کے درمیان ایک تیر کی پھینک کے برابر مسافت ہے۔
حدیث نمبر: 4135
(وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى، يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حِينَ قَدِمَ إِلَى مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات بسر کرتے اور وہیں نمازِ فجر ادا کرتے، جس مقام پراس وقت مسجد تعمیر کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں نہیں، بلکہ اس سے ذرا ہٹ کر نیچے کی طرف پکے ٹیلہ پر نماز ادا کی تھی۔
حدیث نمبر: 4136
(قَالَ وَأَخْبَرَنِي) أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي قِبَلَ الْكَعْبَةِ فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ يَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی جانب دو پہاڑی راستوں کو سامنے رکھا اور ٹیلے کی ایک جانب پر جو مسجد ہے، اس سے ذرا بائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر سیاہ ٹیلے کے اوپر نماز ادا کی۔