حدیث نمبر: 4123
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ، قَالَ: فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَحُجَّ وَيَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نَفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((اغْتَسِلِي، ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي))، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ ((لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ))، وَلَبَّى النَّاسُ، وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ، وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي، وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، قَالَ جَابِرٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى}، قَالَ أَبِي: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا، فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ، وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}، ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ}، ثُمَّ قَالَ: ((نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ))، فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَصَدَّقَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ))، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ، ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا، فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، قَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُهُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً))، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فَقَالَ: ((لِلْأَبَدِ))، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ، وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ هَدْيًا، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا، وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ، فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا، أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ، قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ: أَمَرَنِي بِهِ أَبِي، قَالَ: ((صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ))، قَالَ جَابِرٌ: وَقَالَ لِعَلِيٍّ: ((بِمَ أَهْلَلْتَ؟))، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَعِيَ الْهَدْيُ، قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّلْ))، قَالَ: فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ))، وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: ((وَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ))، وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: ((وَقَفْتُ هَاهُنَا، وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جعفر کے والد کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ ان دنوں بنو سلمہ محلے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں نو سال بسر کئے اور اس عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج نہیں کیا،اس کے بعد لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں،یہ اعلان سن کر بے شمار لوگ مدینہ منورہ میں جمع ہو گئے، ہر آدمی چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کرے اور وہی افعال کرے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرانجام دیں، چنانچہ ذی قعدہ کے دس روز باقی تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر شروع کر دیا،ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو گئے۔ جب ہم ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو جنم دیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ اب وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آگے بڑھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری بیداء پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمہٗ توحید پڑھا: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا، لوگ اپنے تلبیہ میں ذَا الْمَعَارِجِ (اے بلندیوں والے) وغیرہ کے الفاظ بھی بڑھا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے یہ الفاظ سنے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کچھ نہ کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، تاحدِّ نظر انسان ہی انسان تھے، کوئی سوار تھا اورکوئی پیدل۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی اس کی بہترین تفسیر جانتے تھے، جیسے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمل کئے، ہم بھی اسی کے مطابق کرتے گئے، ہم حج کی نیت سے روانہ ہوئے تھے، جب ہم کعبہ پہنچے تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر تین چکروں میں ذرا تیز اور چار چکروں میں ذرا آہستہ چال چل کر بیت اللہ کا طواف کیا، اس سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ آیت تلاوت کی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} … ( تم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرو۔) ((سورۂ بقرہ : ۱۲۵)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفاکی طرف چلے گئے اور یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} … (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس سے اللہ نے ابتدا کی، ہم بھی اسی سے آغاز کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کے اوپر اس قدر چڑھ گئے کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس نے اپنے بندے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا کر دکھایا اور وہ اکیلا تمام جماعتوں اور گروہوں پر غالب رہا)اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں دعائیں کیں۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا سے نیچے تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے درمیان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوڑے، جب بلندی شروع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ آہستہ چلنے لگے تاآنکہ مروہ پر پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ کے اوپر چلے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا،وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح دعائیں کیں جیسے صفا پر کی تھیں۔ جب مروہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتواں چکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا دیتا، اب جن لوگوں کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اپنے اس عمل کو عمرہ بنا لیں اور احرام کھول دیں، چنانچہ سب لوگ (جن کے پاس قربانی نہیں تھی) حلال ہو گئے۔سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو اس وقت مروہ سے نیچے تھے، نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں میں عمرہ کی یہ اجازت اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا: ہمیشہ کے لئے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اُدھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے یہ جانور لے کر آئے تھے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا تھا اور رنگین لباس پہن لیا تھا اور سرمہ بھی ڈال لیا تھا، لیکن ان کا یہ عمل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اچھا نہ لگا، جب انہوں نے اس پر انکار کیا تو انہوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ وہ غصے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا اور کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رنگ دار کپڑے پہن لئے ہیں اور سرمہ بھی ڈال لیا ہے اور کہتی ہے کہ اس کو اس کے والد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ٹھیک کہتی ہے، (تین بار فرمایا) میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ پڑھتے وقت کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے کہا تھا کہ جس طرح کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے، میری بھی وہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے پاس تو قربانی کا جانور ہے، لہٰذا تم بھی احرام کی حالت میں ہی ٹھہرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے جو جانور لے کر آئے تھے، ان کی مجموعی تعداد (۱۰۰) تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (۶۳) اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے اور باقی اونٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قربانی میں شریک کیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لے کر پکانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گوشت ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ نوش کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں جانور ذبح کئے ہیں،تاہم پورامنی قربان گاہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں ایک مقام پر قیام کیا اورفرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تاہم پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں ایک مقام پر وقوف کیا اور فرمایا: میں تو یہاں ٹھہرا ہوا ہوں، تاہم پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ملا علی قاری نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں کہا: حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نوے ہزار (۰۰۰,۹۰) صحابہ تھے۔ ایک قول کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ، تیس ہزار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدی کے جو اونٹ مدینہ منورہ سے لے کر گئے تھے، ان کی تعداد تریسٹھ (۶۳) تھی، باقی سینتیس (۳۷) اونٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے۔
حدیث نمبر: 4124
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، إِلَى قَوْلِهِ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ))، ثُمَّ قَالَ: ((وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ، أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ))، قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ، الْجَزُورُ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةُ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان تک تو یہ حدیث اسی طرح مروی ہے: جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی اب حلال ہو جاتا، خبردار! تم احکام حج سیکھ لو۔ یہ سن کر لوگ حلال ہو گئے، جب ترویہ کا دن یعنی ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی اور لوگ منیٰ کی طرف جانے لگے تو انہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا، استطاعت رکھنے والوں پر قربانی تھی اور قدرت نہ رکھنے والوں پر روزے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور جو لوگ حج (قران) کر رہے تھے، ان کا حج اور عمرے دونوں کے لیے ایک ایک طواف اور ایک ایک سعی تھی۔
حدیث نمبر: 4125
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ))، ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ((السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ! السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ!))، حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ))، ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ((السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ!))، حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ، فَخَبَّبَ حَتَّى خَرَجَ، ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، ثُمَّ جَاءَ الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنَى مَنْحَرٌ))، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَقَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا فَيُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ))، وَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْهَا، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقَ، قَالَ: ((فَلَا حَرَجَ، فَاحْلِقْ))، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ، فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ فَانْحَرْ))، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِسِجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: ((انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ))، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُكَ تَصْرِفُ وَجْهَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ: ((إِنِّي رَأَيْتُ غُلَامًا شَابًّا وَجَارِيَةً شَابَّةً فَخَشِيتُ عَلَيْهِمَا الشَّيْطَانَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کر رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا عرفہ جائے وقوف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذرا تیز چلے اور لوگ بھی دائیں بائیں پھیل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! سکون سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے مرذلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نمازیں (مغرب اور عشاء) جمع کر کے ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ ہی میں ٹھہر گئے اور قُزَح نامی بلند جگہ پر وقوف کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آگے روانہ ہوئے، تیز چلے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے جا رہے تھے: لوگو! سکون سے، آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک جا پہنچے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو کوڑا مارا اور دوڑایایہاں تک کہ وادیٔ محسر پار کر گئے، پھر پہلی رفتار سے چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں جا کر جمرہ (عقبہ) کی رمی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربان گاہ میں گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے، تاہم پورا منیٰ قربان گاہ ہے۔ بنو خشعم کی ایک نوجوان خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے پوچھا : میرا والد کافی بوڑھا ہو چکا ہے، جبکہ اس پر اللہ تعالی کا فریضہ حج لازم ہو چکا ہے، لیکن وہ خود ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے چہرے کو اس عورت سے دوسری طرف کو پھیر دیا، پھر ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرنے کے بعد احرام کھول کر لباس پہن لیا ہے، مگر ابھی تک سر نہیں منڈوا سکا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اب سر منڈا لو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرکے لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، تم اب قربانی کر لو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کیا اور مائے زمزم کا ایک ڈول منگوا کر اس سے پانی پیا اور وضو بھی کیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی کنوئیں سے پانی نکالتا، اب تم پانی نکال نکال کر حاجیوں کو پلاؤ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بھتیجے (فضل رضی اللہ عنہ ) کا رخ دوسری طرف پھیر دیا تھا، اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو دیکھا اور مجھے ان پر شیطان کے حملے کا اندیشہ ہونے لگا۔
حدیث نمبر: 4126
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ: ((مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ))، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا، کچھ لوگ تو قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، ان پر احرام کی وجہ سے جو حلال چیز حرام ہو چکی ہے، وہ حج پورا ہونے تک حلال نہیں ہو گی، لیکن جن کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں، پھر وہ حج کے لیے علیحدہ احرام باندھیں گے اور قربانی کریں گے، جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین روزے حج کے ایام میں اور سات روزے گھر جا کر رکھے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس کے بعد بیت اللہ کے گرد سات چکروں میں سے پہلے تین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، طواف مکمل کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراہیم کے قریب دو رکعتیں ادا کی اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو صفا پر تشریف لے گئے، اور صفا مروہ کی سعی کی اور حج سے فارغ ہونے تک احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حلال نہ ہوئی، دس ذوالحجہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی،جو لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی اسی طرح کے اعمال سرانجام دیئے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادا کیے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے شروع میں مذکور لفظ ’’تَمَتَّعَ‘‘ کا لغوی معنی مراد ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی حاصل کر لیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران ادا کر رہے تھے، لغوی اعتبار سے حج قران پر حج تمتع کا اطلاق بھی ہو جاتا ہے، اصطلاحی طور پر ان کی تعریفات میں فرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر اس کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی شامل کر لیا۔ اس حدیث کے الفاظ ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کے دوران تلبیہ کہتے تو پہلے عمرے کا ذکر کرتے اور پھر حج کا، اس سے مراد ابتدائے احرام کی حالت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4127
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِهِ سَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ، بِيَدِهِ قِيَامًا وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں نمازِ ظہر کی چار اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رات بسر کی اورنمازِ فجر کے بعد سواری پر سوار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کی، پھر جب سواری بیداء پر بلند ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حلال ہونے کا یعنی احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ جب ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات اونٹوں کو نحر کیا، جبکہ وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں دو سینگ دار سفید مینڈھے بطور قربانی ذبح کئے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف سات اونٹ ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہو، آخری جملے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینہ منورہ کا عمل بیان کر رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((ثُمَّّ بَاتَ حَتّٰی اَصْبَحَ، فَصَلّٰی الصُّبْحَ، ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ …)) … پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا کی اور پھر (حج و عمرہ کے لیے) اپنی سواری پر سوار ہو گئے۔
حدیث نمبر: 4128
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدَرِ، فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَّةٌ وَرِحَالُهُمُ الْأُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِهِمْ الْجُرُرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتِ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذَا قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج سے واپس آ رہا تھے، ہمارے قریب سے ایک یمنی قافلہ گزرا، ان کے اونٹوں کے پالان چمڑے کے اور مہاریں بالوں کی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص اس سال کے حاجیوں میں ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہو جو حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہوں، وہ اس جماعت کو دیکھ لے۔