کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمرۂ جعرانہ کا بیان
حدیث نمبر: 4120
عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنَ الْجِعْرَانَةِ، حِينَ أَمْسَى مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا فَقَضَى عُمْرَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ، حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ بِسَرِفَ، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ:) فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محرش کعبی خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے رات کو جعرانہ سے روانہ ہوئے اوررات کو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا، پھر اسی رات کو وہاں سے نکل آئے اور صبح کے وقت جعرانہ میں تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعرانہ میں ہی رات گزاری ہے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ سے وادیٔ سرف کی طرف نکلے اور سرف سے نکلنے والے مدینہ منورہ والے راستے پر آ گئے۔ سیدنا محرش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمرہ کی اطلاع نہ ہو سکی، ایک روایت میں ہے: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف دیکھا گویا وہ (صفائی ستھرائی میں) چاندی کی لڑی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۸ھ میں ہونے والے غزوۂ حنین کی غنیمتیں جعرانہ کے مقام پر تقسیم کی تھیں،یہ مقام مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ہے اور مکہ مکرمہ سے زیادہ قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر راتوں رات عمرہ کر کے واپس آ گئے تھے۔ اس عمرے کا انکار کرنے والوں کو اس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1996، والترمذي: 935، والنسائي: 5/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15604»