کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمرۂ حدیبیہ کا بیان
حدیث نمبر: 4116
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَّةِ، فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا يَحْمِلُ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ (وَفِي لَفْظٍ: وَلَا يَحْمِلُ سِلَاحًا) إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمُ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمْرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، لیکن کفارِ قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی ہَدی کاجانور ذبح کر دیا اور اپنا سر منڈوا لیا، اور ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کے لئے آ سکیں گے اور ان میں سے کوئی مسلح نہ ہو گا، البتہ ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ اس وقت تک ٹھہر سکیں گے، جب تک کفار چاہیں گے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال آ کر عمرہ کیا، معاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انہوں نے کہا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے جائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے آئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر ذوالقعدہ کے شروع میں۶ھ میں مدینہ منورہ سے نکلے تھے، یہ سوموار کا دن تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرج البخاري: 2701، 4252 مثله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»
حدیث نمبر: 4117
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا: قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِالْعُمْرَةِ، وَحَلَقَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ فِي عُمْرَتِهِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہَدی کے جانوروں کو قلادے ڈالے، ذوالحلیفہ کے مقام پر ان کے پہلوؤں پر علامتی چیرا دیا اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمنڈوا دیا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی کچھ کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور صحابہ کو بھی یہی حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’کتاب الھدایا و الضحایا‘‘ میں ہدی اور قربانی کے احکام کی تفصیل بیان ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4117
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1811، 2731، 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128»