کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان
حدیث نمبر: 4108
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ عمرہ کے بارے میں ذرا بتلائیں کہ کیایہ واجب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کرو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اسی طرح درج ذیل حدیث بھی ضعیف ہے، جو انتہائی واضح طور پر عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ فَرِیْضَتَانِ۔)) … حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔‘‘ (ابن عدی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4108
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن۔ أخرجه الترمذي: 931 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14450»
حدیث نمبر: 4109
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ يَعْنِي امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا حَتَّى يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
وضاحت:
فوائد: … عمرہ کے حکم کے بارے میں مزیداحادیث: (۱) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ مشہور حدیث ِ جبریل میں ہے: جب جبریل علیہ السلام نے اسلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنْ تُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَوَتَحُجَّ الْبَیْتَ وَتَعْتَمِرَوَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ تُتِمَّ الْوُضُوْئَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ۔ قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَاَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ … اسلام یہ ہے کہ تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرے اور غسلِ جنابت کرے اور وضو مکمل کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ: ۱/۳)
(۲)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱) ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَی النِّسَائِ جِہَادٌ۔ قَالَ: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ہُوَ جِہَادُ النِّسَائِ)) … اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔‘‘ اس حدیث میں ’’عَلٰی‘‘ کا کلمہ وجوب کا فائدہ دینے میں ظاہر ہے۔
(۳)صبی بن معبد نے کہا: ((رَاَیْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ مَکْتُوْبَیْنِ عَلَیَّ فَاَھْلَلْتُ بِھِمَا۔ فَقَالَ لَہٗ: ھُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ)) … میں نے حج اور عمرہ کو اپنے آپ پر فرض پایا، اس لیے ان دونوں کا تلبیہ کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تجھے تیرے نبی کی سنت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے۔ (سنن ابی داود: ۱۷۹۹)سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا جابر اور امام شافعی اور امام احمد وغیرہ عمرہ کے وجوب کے قائل ہیں۔جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام نخعی وغیرہ کا خیال ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، بلکہ سنت ہے۔علامہ شوکانی کہتے ہیں: حق یہ ہے کہ عمرہ واجب نہیں اور اس کے وجوب کی کوئی صریح دلیل بھی نہیں۔لیکن فوائد میں مذکورہ تین دلائل عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 395، 396، 1623، 1624، وأخرجه الشطر الثاني منه مسلم: 1234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4641»