کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4099
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ يَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے: (۱) عمرۂ حدیبیہ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4099
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5069»
حدیث نمبر: 4100
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، نُرِيدُ الْعُمْرَةَ مِنْهَا، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُمَرَهُ كُلَّهَا قَبْلَ حَجَّتِهِ وَاعْتَمَرْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6475»
حدیث نمبر: 4101
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ، اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأُشْفِيكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمران اسلم کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کی معیت میں حج کے لئے گیا، میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: کیا میں حج سے قبل عمرہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی تمہاری مرضی ہے، اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور چاہو تو بعد میں کر لو۔ میں نے کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ عمرہ نہیں کر سکتا۔ پھر میں نے دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہ سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو ان سب نے وہی بات کہی جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہی تھی، میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی، پھر انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن میں تمہاری مزید تشفی کر دیتی ہوں اور وہ اس طرح کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرے کا تلبیہ بھی کہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران کا حکم دے رہے ہیں، اس حج میں ایک احرام میں حج اور عمرہ ادا کیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حج ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 792، والبيھقي: 4/ 355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27083»
حدیث نمبر: 4102
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمرہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے صرف عمرۂ قضا اور عمرۂ جعرانہ کا ذکر کیا ہے، عمرۂ حدیبیہ کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا کہ یہ مکمل نہیں ہوا تھا اور آخری عمرے کا ذکر اس لیے نہیں کہ یہ حج کے اعمال میں داخل تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه البيھقي: 5/ 11، وابويعلي: 1660، واخرج البخاري: 1781 بلفظ: اعتمر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في ذي القعدة مرتين۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18832»
حدیث نمبر: 4103
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (حج کے موقع پر) حائضہ ہو گئیں، لیکن انھوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ سارے مناسکِ حج ادا کیے، پھر انھوں نے پاک ہونے کے بعد طواف کر لیا، جب لوگ واپس جانے لگے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ تو حج اور عمرہ ادا کرکے جا رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس جاؤں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف جائیں، (تاکہ یہ عمرہ کر سکیں)، پھر انھوں نے ذوالحجہ میں ہی حج کے بعد عمرہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230، ومسلم: 1213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14330»
حدیث نمبر: 4104
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: ((يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَلِعُمْرَتِكِ))، فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب وہ مکہ پہنچیں تو ابھی تک انہوں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہو گئیں، پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور تمام مناسک ادا کئے، دس ذوالحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے دونوں کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن انھوں نے اس چیز کو تسلیم نہ کیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حج کے بعد ان کے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم بھیجا، اس طرح انھوں نے عمرہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہی مفہوم رکھنے والی ایک اور حدیث درج ذیل ہے، جو اسی کتاب کی حدیث نمبر (۴۱۶۸) ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’کیا بات ہے، رو رہی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَمِنْ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتّٰی حَجَجْتُ، قَالَ: ((فَاذْہَبْ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَکَ مِنَ التَّنْعِیْمِ۔)) …
’’اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جائو گی۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’عبد الرحمن! جائو اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔‘‘ (مسلم: ۱۲۱۳، دیکھئے: حدیث نمبر ۴۱۶۸)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے لیے خروج تک حائضہ ہی رہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ حج قران شروع کر دیں، جس میں عمرہ بھی ادا ہو جائے گا، لیکن جب سیدہ نے اس خواہش کا اظہارکیا کہ وہ الگ سے عمرہ ادا کرنا چاہتی ہے اور اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ حج کے بعد عمرہ کرنے میں مشرکوں کی مزید مخالفت بھی ہے، کیونکہ وہ اشہر الحج سمیت ذوالحجہ کے آخر تک عمرہ کرنے کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کی درخواست قبول کی اور ان کو عمرہ کرنے کا موقع فراہم فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس طرح کا عمرہ کرنا حائضہ خاتون کے ساتھ خاص نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حیض کی وجہ سے عمرہ فسخ کر کے صرف حج کا احرام باندھ لیا تھا، اس طرح وہ عمرہ ادا نہیں کر سکی تھیں، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کیاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی، لہٰذا یہ رخصت صرف اس قسم کی صورتحال میں مبتلا ہو جانے والی خواتین کے لیے ہیں۔
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہ رائے درست نہیں ہے، کیونکہ سیدہ نے تو حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا، لیکن ان کی رغبت کو سامنے رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا عمرہ کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ رخصت صرف اس قسم کی حائضہ خواتینکے لیے ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی تو حج قران ہی کیا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ حج قران کرنے کے بعد عمرہ کرنے والی درخواست صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیش کی، اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ کوئی اور آدمی اس قسم کا عمرہ نہیں کر سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ تھا کہ وہ دونوں عبادتوں کو الگ الگ مستقل طور پر سرانجام دیں، تاکہ ان کے لیے زیادہ مشقت اٹھانا پڑے اور اس طرح زیادہ اجر و ثواب ملے۔اگر اس واقعہ کے تمام طرق کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ دراصل مسافر لوگوں کے لیے عمرہ کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے وقوع پذیر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک دفعہ کوئی بات ارشاد فرمانا، ایک دفعہ کوئی فعل سرانجام دینا اور ایک دفعہ کسی امر کی اجازت دینا، اس عمل کے مسنون ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
تنبیہ: … جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی وجہ سے الگ سے عمرہ ادا نہ کر سکیں تو انھوں نے حلال ہوئے بغیر حج قران کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، جیسا کہ امام نووی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’عائشہ! تم اپنا عمرہ چھوڑ دو۔‘‘ کا یہ معنی نہیں کہ وہ کلی طور پر احرام سے خارج ہو گئی تھیں، کیونکہیہ نہیں ہو سکتا کہ احرام کے بعد حج اور عمرہ سے خروج کی نیت کر لی جائے، بلکہ ان سے حلال ہونے کا طریقہیہ ہے کہ ان کی ادائیگی کو مکمل کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ اب عمرے کے اعمال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دے اور حج کا تلبیہ شروع کر دے، اس طرح وہ حج قران کرنے والی بن جائے گی اور طواف کے علاوہ سارے مناسک ِ حج ادا کرے گی، جب پاک ہو جائے گی تو طواف کرے گی اور سیدہ نے اسی طرح کیا تھا۔ (شرح مسلم للنووی: ۸/ ۱۳۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4104
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25445»
حدیث نمبر: 4105
عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيِّ السَّلَمِيِّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْعُمْرَةِ بَعْدَ الْحَجِّ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعِيَ أَخِي فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ فَاعْتَمَرْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عیسیٰ بن عبد الرحمن کی ماں بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے حج کے بعد عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے یوں جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہمراہ میرے بھائی کو بھیجا تھا، میں حرم سے باہر نکل گئی تھی اور پھر وہاں سے عمرہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4105
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25336»
حدیث نمبر: 4106
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے بعد وادیٔ محصّب والی رات کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا تا کہ مشرکین کے ایک نظریے کو ختم کر دیں، کیونکہ وہ یہ کہا کرتے تھے: جب (حج کے سفر کے بعد) اونٹوں سے سفر کی مشقت کے آثار زائل ہو جائیں، راستوں سے (حاجیوں کے قافلوں کے) نشانات مٹ جائیں اور ماہِ صفر آ جائے تو تب عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مشرکین کا نظریہیہ تھا کہ حج کے بعد بھی ذوالحجہ کا مہینہ ختم ہونے تک عمرہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اسی چیز کو وہ اس کلام میں بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اعتراض یہ ہے کہ ذوالحجہ کے بعد محرم کا مہینہ آتا ہے، لیکن مشرکین اس شعر میں صفر کا ذکر کر رہے ہیں، جو کہ محرم کے بعد آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین اپنے مقاصد کی خاطر حرمت والے مہینوں کی ترتیب تبدیل کر دیتے تھے، یہاں انھوں نے محرم کو صفر کی جگہ پر اور صفر کو محرم کی جگہ پر رکھ دیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرمت والے تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم لگاتار ہیں، اب اس میں ان کے لیے تنگی اور مشکل تھی کہ وہ لگاتار تین مہینوں تک لڑائی وغیرہ سے رکیں رہیں، اس لیے ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے بعد محرم کی بجائے وہ صفر کا مہینہ فرض کر لیتے تھے۔ اللہ تعالی نے مشرکوں کے اس ظلم کو یوں بیان کیا ہے: {اِنَّمَا الـنَّسِیْئُ زِیَـادَۃٌ فِیْ الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ زُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ۔} … ’’مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے، اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں، ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا کر لیتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں، پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے، انہیں ان کے برے کا م بھلے دکھا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافر قوم کی رہنمائی نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۂ توبہ: ۳۷) لیکن اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کو یہ شعور بھی نہیں ہوتا ہے کہ حرمت والے مہینے کون سے ہیں اور وہ کب شروع ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان مہینوں کے آداب بجا لانے سے مکمل طور پر غافل ہیں۔ حرمت والے مہینے چار ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ان کا ادب یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر کے ان کی حرمت کو پامال نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4106
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2361»
حدیث نمبر: 4107
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ذَاكَ يَا عُرْوَةُ؟ قَالَ: تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عروہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا: عروہ! کیا بات ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عمل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا ہے۔ عروہ نے کہا: لیکن وہ دونوں آپ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ حج کے مہینوںمیں عمرہ کرنا درست ہے، دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ مصلحت تھی کہ لوگ حج کے مہینوں میں لوگ حج کے لیے سفر کر کے آئیں اور پھر دوسرے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے الگ سے آئیں، تاکہ دونوں عبادتیں اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر ہوں اور دونوں کے لیے الگ الگ مشقت اور خرچہ برداشت کیا جائے، دیکھیں احادیث نمبر (۴۲۰۴، ۴۲۰۵،۴۲۰۶)۔لیکن شیخین کی اس رائے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کو ناجائز سمجھتے تھے، حدیث نمبر (۴۱۹۴)میں اور اس کی شرح میں اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2277»