کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4094
عَنْ هَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِي أَيِّ الشُّهُورِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2992، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17743»
حدیث نمبر: 4095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4095
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1782، ومسلم: 1256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2809»
حدیث نمبر: 4096
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۰۸۲)کی شرح میں اس فضیلت کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ماجه: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14855»
حدیث نمبر: 4097
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ((يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ))، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ((أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ))، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَخِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ‘‘ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4097
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498، وابن ماجه: 2894، والترمذي: 3562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 195»
حدیث نمبر: 4098
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4098
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15701م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15792»