کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَا عَطَاءٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا: ((مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ))، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ، فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا، نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری عورت، جس کا انھوں نے نام بھی لیا تھا لیکن مجھے بھول گیا، سے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم ہمارے ساتھ اس سال حج کے لیے نہیں جا رہیں؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی کریم! ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، میرا شوہر اور بیٹا ایک اونٹنی لے کر سفر پر روانہ ہو رہے ہیں اور ایک اونٹنی پیچھے چھوڑ رہے ہیں،اس پر ہم پانی لاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو جب ماہِ رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ اس ماہ میں کیا گیا عمرہ، حج کے برابر ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان کے عمرہ کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے، لیکنیقینایہ عمرہ، حج سے کفایت نہیں کرے گا، امام ابن خزیمہ نے اس فضیلت کے بارے میں کہا: جب ایک چیز بعض امور اور معانی میں دوسرے کے مشابہ ہوتی ہے، تو اس کو بھی اس کی برابری کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ نہ کہ خود اس چیز کا، یہی وجہ ہے کہ عمرہ کے ذریعے فرضیت اور نذر والے حج کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ گھر کی جائز ضروریات کو حج پر مقدم کرنا چاہیے، سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت میں کتنا اعتدال اور حسن ہے۔اگر کوئی آدمی عمرہ کی طاقت رکھتا ہو، نہ کہ حج کی تو اسے چاہیے کہ رمضان میں عمرہ کرنے کو ترجیح دے،تاکہ زندگی میں وہ جو فریضہ ادا نہیں کر سکتا ہے، اس کا ثواب تو حاصل کر لے۔
حدیث نمبر: 4083
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أُمِّ مَعْقِلٍ عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ قَالَ: أَرَادَتْ أُمِّيَ الْحَجَّ وَكَانَ جَمَلُهَا أَعْجَفَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ معقل کہتے ہیں: میری ماں سیدنا ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہا نے حج کا ارادہ کیا، لیکن ان کا اونٹ لاغر تھا، جب انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا گیا عمرہ ، حج کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 4084
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَجَمَلِي أَعْجَفُ فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ((اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں ،لیکن میرا اونٹ کمزور ہے، اب آپ مجھے کیا حکم دیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حج وعمرہ کے سفر کے لیے سواری کو مطلق طور پر شرط نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جو کسی بیمارییا دوری کی وجہ سے پیدل نہ چل سکتا ہو اور اس کے پاس سواری بھی نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 4085
عَنْ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: أَرَدْتُ الْحَجَّ فَضَلَّ بَعِيرِي، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اعْتَمِرِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو اسد بن خزیمہ کی ایک خاتون سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حج کرنے کا ارادہ کیا، لیکن میرا اونٹ گم ہو گیا، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ اس مہینے میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 4086
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ رَكِبَ مَعَ مَرْوَانَ حِينَ رَكِبَ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ، قَالَ: وَكُنْتُ فِيمَنْ دَخَلَ عَلَيْهَا مِنَ النَّاسِ مَعَهُ وَسَمِعْتُهَا حِينَ حَدَّثَتْ هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں: جب مروان، سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کی طرف گئے تو میں بھی قافلہ میں شامل تھا اور جو لوگ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے ان میں میں بھی تھا، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، جو میں نے خود ان سے سنی۔
حدیث نمبر: 4087
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا لَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ، فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ فَأَبَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً أَوْ تُجْزِئُ حَجَّةً، وَقَالَ حَجَّاجٌ تَعْدِلُ بِحَجَّةٍ أَوْ تُجْزِئُ بِحَجَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ مروان نے سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، انھوں نے یہ حدیث یوں بیان کی: میرے شوہر نے میرا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ، جب میں نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے شوہر سے اونٹ طلب کیا ، لیکن اس نے مجھے اونٹ دینے سے انکار کر دیا،میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ ساری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے شوہر کو حکم دیا کہ وہ مجھے میرا اونٹ دے دے۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں سے ہیں۔ نیز فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہوتا ہے ۔ یا یوں فرمایا کہ حج سے کفایت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 4088
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَ: قَالَتْ: جَاءَ أَبُو مَعْقِلٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو مَعْقِلٍ قَالَتْ أُمُّ مَعْقِلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً، وَأَنَّ عِنْدَكَ بَكْرًا فَأَعْطِنِي فَلِأَحُجَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: إِنَّكِ قَدْ عَلِمْتِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَأَعْطِنِي صِرَامَ نَخْلِكَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتِ أَنَّهُ قُوتُ أَهْلِي، قَالَتْ: فَإِنِّي مُكَلِّمَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَاكِرَتُهُ لَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقِلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقِلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ((أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))، قَالَ: فَلَمَّا أَعْطَاهَا الْبَكْرَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي؟ قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ لِحَجَّتِكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروان نے جس قاصد کو سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا، اس نے مجھے بیان کیا کہ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو جانے لگے، جب وہ گھر آئے تو میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ مجھ پر بھی حج فرض ہے اور آپ کے پاس ایک اونٹ ہے، آپ وہ مجھے دے دیں تاکہ میں بھی حج کر سکوں۔انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ میں اسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں، اس لیے وہ آپ کو نہیں دیا جا سکتا۔ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر آپ نے جو کھجوریں چن لی ہیں، وہ مجھے دے دیں، انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ وہ تو میرے اہل و عیال کی خوراک ہیں، سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کرتی ہوں۔چنانچہ وہ دونوں چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس ایک اونٹ بھی ہے۔ سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی بات درست ہے ،مگر میں تو اسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وہ اونٹ اسے دے دو، تاکہ یہ اس پر حج کر سکے، اور حج بھی اللہ تعالی کی راہ میں سے ہے۔ جب سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے اونٹ دے دیا تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اب کافی عمر رسیدہ ہو چکی ہوں اور بیمار بھی رہتی ہوں ،کیا کوئی عمل ایساہے جو میرے حج کا عوض بن سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج سے کفایت کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی صحیح روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع ادا کیا تو اس وقت ہمارا ایک اونٹ تھا، سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اس کو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) کے لیے وقف کر دیا تھا، ان دنوں ہم بیمار ہو گئے تھے اور سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس سفر پر روانہ ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’ام معقل! کس چیز نے آپ کو ہمارے ساتھ نکلنے سے روک لیا تھا؟‘‘ میں نے کہا: ہم نے تیاری تو کی تھی، لیکن سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تھے اور دوسری بات یہ تھی کہ جس اونٹ پر ہم حج ادا کرتے تھے، انھوں نے اس کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تو کیوں نہیں نکلی ہمارے ساتھ، کیونکہ حج بھی تو فی سبیل اللہ ہے، بہرحال اب تو ہمارے ساتھ والا یہ حج گزر گیا، تم اس طرح کرنا کہ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ وہ بھی حج کی طرح ہے۔‘‘
اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حج کا تعلق بھی فی سبیل اللہ سے ہے، اگر کوئی آدمی کسی چیز کو جہاد کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کو سفرِ حج و عمرہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، حدیث نمبر (۴۰۶۱) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حج اور جہاد دونوں کے لیے جو چیز خرچ کی جائے گی، اس کا ثواب سات سو گنا تک ملے گا اور ہم حدیث (۴۰۶۲) کے فوائد میں یہ بحت کر آئے ہیں کہ خواتین کا حج، اُن کے حق میں جہاد کا حکم رکھتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جہاد میں لڑنا پڑتا ہے اور حج کا لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ باقی سفر کرنا، کئی مشقتیں برداشت کرنا، راستے کے اخراجات کا بندوبست کرنا اور اہل و عیال سے دور ہونا، یہ تمام امور جیسے جہاد میں ہیں، اس طرح حج وعمرہ کے سفر میں ہیں۔
اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حج کا تعلق بھی فی سبیل اللہ سے ہے، اگر کوئی آدمی کسی چیز کو جہاد کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کو سفرِ حج و عمرہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، حدیث نمبر (۴۰۶۱) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حج اور جہاد دونوں کے لیے جو چیز خرچ کی جائے گی، اس کا ثواب سات سو گنا تک ملے گا اور ہم حدیث (۴۰۶۲) کے فوائد میں یہ بحت کر آئے ہیں کہ خواتین کا حج، اُن کے حق میں جہاد کا حکم رکھتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جہاد میں لڑنا پڑتا ہے اور حج کا لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ باقی سفر کرنا، کئی مشقتیں برداشت کرنا، راستے کے اخراجات کا بندوبست کرنا اور اہل و عیال سے دور ہونا، یہ تمام امور جیسے جہاد میں ہیں، اس طرح حج وعمرہ کے سفر میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4089
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ، فَوَقَعَ فَمَاتَ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کی طرف جہاد کے لئے گئے ہوئے تھے، اس وقت ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو آدمی ایسے چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو اور وہ گر کر مر جائے تو اس سے اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے، اسی طرح جو آدمی اس حال میں سمندری سفر کرے کہ وہ متلاطم خیز ہو اور پھر وہ مرجائے تو اس سے بھی اللہ کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ انسان اپنی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے، اگر بظاہر اسے اپنی ہلاکت کا خطرہ ہو تو اللہ تعالی کی طرف سے کسی قسم کی حفاظت کی ضمانت نہ ہو گی۔ اللہ تعالی نے امت ِ مسلمہ کے لیے جو شرعی قوانین وضع کئے ہیں، ان میں انسانیت کے جان، مال اور عزت، غرضیکہ ہر چیز کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ میں دو آدمیوں کو جانتا ہوں۔ جو نیند کی حالت میں چھت پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 4090
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَيْنَا أَمِيرٌ، يُقَالُ لَهُ زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ حَوْلَهُ شَيْءٌ يَرُدُّ رِجْلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا يَرْتَجُّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کے علاقے میں تھے ، زہیر بن عبد اللہ نامی ایک شخص ہمارا امیر تھا، اس نے کہاکہ ایک آدمی نے اسے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی چھت کے پردے کے اوپر یا چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی ایسا پردہ یا رکاوٹ نہ ہو جو اس کی ٹانگ کو روک سکے تو اللہ تعالی کی حفاظت اس سے اٹھ جاتی ہے، اسی طرح سمندر کے متلاطم ہونے کے بعد اس کا سفر کرے تو اس سے بھی اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا رہا ہے کہ حج کا راستہ پر امن ہونا چاہیے، اگر بعض وجوہات کی بنا پر جان اور کسی بڑی مشکل کا خطرہ ہو تو حج کے لیے روانہ نہیں ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4091
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي اُكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: ((فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی خاتون محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: فلاں غزوے میں میرا نام لکھا گیاہے ،جبکہ میری اہلیہ حج کے لئے جانا چاہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور اس کے ساتھ حج کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت مطلق طور پر کوئی سفر نہیں کر سکتی، الّا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم یا خاوند ہو۔ بعض احادیث میں تین دنوں کا، بعض میں دو دنوں کا، بعض میں ایک دن رات کا، بعض میں ایک رات کا اور بعض ایک دن کے سفر کی قید لگائی گئی ہے، لیکنحقیقتیہ ہے کہ اتفاقی قیدیں ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے محرم یا خاوند کے بغیر سفر نہیں کر سکتی۔ اس کا نتیجہیہ نکلا کہ عورت کو حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے محرم یا خاوند کے بغیر نہیں جانا چاہیے، جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے، نیز وہ کہتے ہیں کہ اس کو دوسری عورتوں کے ساتھ سفر نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ وہ بااعتبار ہوں، دلائل کے ظاہری مفہوم کا یہی تقاضا ہے۔
حدیث نمبر: 4092
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ يَوْمًا وَلَيْلَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: تُسَافِرُ لَيْلَةً، وَفِي رِوَايَةٍ: ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: يَوْمًا تَامًا) إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ أَهْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر کرے۔ ایک روایت میں صرف ایک رات کا ، ایک روایت میں تین دنوں کا اور ایک روایت میں ایک مکمل دن کے سفر کا ذکر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔} … ’’اور اللہ تعالی کے لیے ان لوگوں پر حج فرض ہے، جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہیں۔‘‘ (سورۂ آل عمران: ۹۷)
’’راہ پا سکتے ہیں‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آمدو رفت کے سفری اخراجات پورے ہوں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے بیوی بچوں کے پاس جائز اخراجات موجود ہوں، راستہ پرامن ہو اور جان و مال محفوظ رہے، صحت و تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو، نیز عورت کے ساتھ محرم ہو۔ استطاعت میں مطلق طور پر سواری کی شرط نہیں لگائی جا سکتی، پیدل چلنے کی طاقت رکھنے والے سواری نہ ہونے کا عذر پیش نہیں کرسکتے۔
’’راہ پا سکتے ہیں‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آمدو رفت کے سفری اخراجات پورے ہوں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے بیوی بچوں کے پاس جائز اخراجات موجود ہوں، راستہ پرامن ہو اور جان و مال محفوظ رہے، صحت و تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو، نیز عورت کے ساتھ محرم ہو۔ استطاعت میں مطلق طور پر سواری کی شرط نہیں لگائی جا سکتی، پیدل چلنے کی طاقت رکھنے والے سواری نہ ہونے کا عذر پیش نہیں کرسکتے۔