کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 4079
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ، فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ((مَنِ الْقَوْمُ؟))، قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ: ((رَسُولُ اللَّهِ))، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مکہ سے مدینہ کی طرف واپسی کے دوران) روحاء کے مقام پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک قافلے سے ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کہا اور پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہم مسلمان ہیں ، پھر انہوں نے پوچھا: اور آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر ایک خاتون نے گھبراہٹ کے عالَم میں اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اس کو پالکی سے نکالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اوراجر تیرے لیے ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادائیگی ٔحج کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا، روحاء کا مقام مدینہ منورہ سے چھتیس میل پر واقع ہے۔اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بچے کا حج اس کو حجۃ الاسلام سے کفایت نہیں کرے گا، یعنی جب وہ بالغ ہونے کے بعد صاحب ِ استطاعت بنے گا تو دوبارہ اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی، وَاَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ، ثُمْ اُعْتِقَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی۔)) … ’’جو بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا، اسی طرح جو غلام حج کرے اور پھر وہ آزاد ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا۔‘‘ (ابن ابی شیبہ، سنن بیہقی، وھو صحیح مرفوعا، انظر: ارواء الغلیل: ۴/ ۱۵۵)
بچے کے حج کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا اور یہ ثواب اس کے باپ یا ماں کو بھی ملے گا جو اس کو حج کروائیں گے، بچے پر دورانِ حج احرام کی پابندیاں عائد ہوں گی، اگر اس کے لیے حج و عمرہ کی نیت اور اس کے الفاظ کی ادائیگی ناممکن ہو تو اس کا باپ یا ماں اس کی طرف سے یہ امور سرانجام دیں گے۔
بچے کے حج کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا اور یہ ثواب اس کے باپ یا ماں کو بھی ملے گا جو اس کو حج کروائیں گے، بچے پر دورانِ حج احرام کی پابندیاں عائد ہوں گی، اگر اس کے لیے حج و عمرہ کی نیت اور اس کے الفاظ کی ادائیگی ناممکن ہو تو اس کا باپ یا ماں اس کی طرف سے یہ امور سرانجام دیں گے۔
حدیث نمبر: 4080
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے اور ہم نے ان کی طرف سے کنکریاں ماری تھی۔
حدیث نمبر: 4081
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے بھی حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا تھا جبکہ میری عمر سات برس تھی۔