کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت¤ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
حدیث نمبر: 4073
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى دَابَّةِ، قَالَ: ((فَحُجِّي عَنْ أَبِيكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خثعم قبیلہ کی ایک خاتون نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی کے فریضۂ حج نے میرے باپ کو پا لیا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے سواری پر بیٹھنے کی سکت بھی نہیں رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔
حدیث نمبر: 4074
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِيهِ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرا والد مسلمان ہے، لیکن اب وہ اس قدر عمر رسیدہ ہو چکا ہے کہ سواری پر بھی بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتاہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے، تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔
حدیث نمبر: 4075
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنافضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: میرا والد یا والدہ اس قدر بوڑھے ہیں کہ وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، … ۔
وضاحت:
فوائد: … سائل مرد تھا یا خاتون اور باپ کے بارے میں سوال کیا گیایا ماں کے بارے یا دونوں کے بارے میں؟ اس ضمن میں مختلف روایات موجود ہیں، حافظ ابن حجر نے اس صورتحال کا یہ جواب دیا ہے: تمام طرق کو جمع کرنے سے جو بات مجھے معلوم ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ سائل مرد تھا،لیکن اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی اور اس نے بھی سوال کیا تھا اور اس مجلس میں باپ اور ماں دونوں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ (فتح الباری: ۴/ ۶۸)
حدیث نمبر: 4076
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: ((أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاحْجُجْ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خثعم قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا والد مسلمان ہے،لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہو چکا ہے کہ سواری پر سوار ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھتا، جبکہ اس پر حج بھی فرض ہو چکا ہے، تو آیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا بتلاؤ اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے ،تو کیا وہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھرتم اس کی طرف سے حج کرو ۔
حدیث نمبر: 4077
وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَاللَّهُ أَرْحَمُ، حُجَّ عَنْ أَبِيكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی بڑا مہربان ہے، تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔
حدیث نمبر: 4078
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي قَدْ مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے ،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … حج کے سلسلے میں ان احادیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوئے: & جو شخص صاحب ِ مال ہو، لیکن بڑھاپے یا بیماری (جس سے بظاہر شفا کی امید نہ ہو) کی وجہ سے حج اور حج کے لوازمات ادا نہ کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی آدمی کو حج کی ادائیگی کے لیے بھیجے۔
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ’’کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ’’تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔‘‘ (ابوداود، ابن ماجہ)
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ’’کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ’’تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔‘‘ (ابوداود، ابن ماجہ)