کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 4069
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ((هَذِهِ الْحَجَّةُ ثُمَّ، (وَفِي لَفْظٍ: إِنَّمَا هَذِهِ الْحَجَّةُ، ثُمَّ الزَّمْنَ) ظُهُورَ الْحُصْرِ))، قَالَ: فَكُنَّ كُلُّهُنَّ يَحْجَجْنَ إِلَّا زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَسَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَكَانَتَا تَقُولَانِ: وَاللَّهِ! لَا تُحَرِّكُنَّا دَابَّةٌ بَعْدَ أَنْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ) بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنی بیویوں سے فرمایا: یہ تمہارا حج ہو گیا ہے، آئندہ تم (اپنے گھروں میں ہی)اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ساری امہات المومنین حج کے لئے جایا کرتی تھیں ،ماسوائے سیدہ زینب بنت جحش اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما کے، یہ کہا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد یہ حج ہے‘ پھر (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا ہے۔ کے بعد (حج کے لئے) سواری پر سوار نہیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4069
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1647، وابويعلي: 7154، والبيھقي: 5/228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9764»
حدیث نمبر: 4070
عَنْ وَاقِدِ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: ((هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر اپنی بیویوں سے فرمایا تھاکہ یہ حج ہو گیا ہے‘ اس کے بعد (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر (بیٹھ جانا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امہات المومنین کو یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اس حج کی ادائیگی کے بعد اب انہیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے، کیونکہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث کو ’’باب فرض الحج‘‘ میں ذکر کیا۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ امہات المومنین کے لیے حجۃ الوداع کے بعد پھر حج کرنا جائز نہیں ہے۔
لیکن اس استدلال کے دو جوابات دیئے گئے ہیں: (۱) یہ صرف ایک احتمال ہے، کوئی واضح اور صریح معنی نہیں ہے کہ دوسری نصوص سے ثابت ہونے والے یقینی جواز کو ترک کر دیا جائے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لیے سب سے بہترین اور خوبصورت جہاد حج مبرور ہے۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پس میں یہ حدیثسننے کے بعد حج ادا کرنا نہیں چھوڑوں گی۔ ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں، لیکن اس میں لڑنا نہیں ہے، اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘
ان احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ جہاد جس طرح مردوں پر فرض ہے، اس طرح عورتوں پر فرض نہیں ہے، یہ معنی نہیں کہ جہاد کے لیے ان کا نکلنا ہی حرام ہے، کیونکہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورتیں زخمیوںکا علاج کرنے کے لیے نکلتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کی ترغیب پر مشتمل ان احادیث سے یہ سمجھیں کہ وہ بار بار حج کر سکتی ہیں۔ اس لیے اُن دلائل کی روشنی میں ’’ھذہ ثم ظہور الحصر‘‘ اور {وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ} (سورۂ احزاب: ۳۳) کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔شروع شروع میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی توقف اختیار کیا (اور امہات المومنین کو حج کرنے سے منع کر رکھا تھا)، پھر ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلیل کے قوی ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنے دور خلافت کے آخر میں امہات المومنین کو حج کرنے کی اجازت دی، پھر سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے عہد میں ان کو حج کرایا تھا۔ امام بیہقی نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابو واقد کی حدیث ((ھٰذِہٖثُمَّظُھُوْرُالْحُصْرِ))سےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی صرف ایک دفعہ حج ادا کرنا فرض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو آئندہ حج ادا کرنے سے منع نہیں کر رہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو
واجبی طور پر گھروں میں ٹھہرنے کا حکم نہیں دے رہے، یہی بات فتح الباری میں ہے۔
(۲)سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نہی سے مراد یہ ہے کہ امہات المومنین آئندہ حج ترک کر سکتی ہے، یہ معنی نہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے بعد حج ہی ادا نہیں کر سکتیں، کیونکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حج ادا کیا تھا، …۔ (عون المعبود: ۱/ ۸۵۲) رحم اللہ شارحی الحدیث النبوی رحمۃ واسعۃ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22250»
حدیث نمبر: 4071
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ: أَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَكِ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ، الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ))، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جا سکتیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے ایک انتہائی حسین و جمیل جہاد ہے اور وہ ہے حج مبرور۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں کبھی بھی حج نہیں چھوڑوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4071
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25002»
حدیث نمبر: 4072
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ، قَالَ: ((الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی وضاحت حدیث نمبر (۴۰۶۲) میں ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24967»