حدیث نمبر: 4051
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ))، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال یہ ہیں: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حج مبرور تو اس سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حج مبرور: وہ حج ہے، جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔حج ایک اہم رکنِ اسلام اور عظیم اور مشقت طلب عبادت ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مالی اعتبار سے سب سے مہنگی عبادت ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کو کامل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیاجائے اور ریاکاری و نمو دو نمائش سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ ’’ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اعتقادی مسائل اور قطعی الثبوت فرائض و واجبات پر یقین محکم ہونا چاہیے، مثلا توحید، نبوت، حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا، جنت و جہنم، پانچ نمازیں، زکاۃ، روزے اور حج وغیرہ۔
حدیث نمبر: 4052
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ حَجَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ أَمَّ هَذَا الْبَيْتَ) فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج کے لیے اس گھر کا قصد کیا اور اس دوران نہ فحش کلامی کی اور نہ کوئی گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح یوں (معصوم) واپس لوٹے گا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِأَهْلِ عَرَفَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی عرفہ کے دن شام کو اہل عرفہ کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھو،یہ پراگندہ اور گرد آلود ہو کر میرے پاس آئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام نو ذوالحجہ کا دن عرفات میں گزارتے ہیں اور غروب ِ آفتاب کے بعد وہاں سے مزدلفہ کے لیے چل پڑتے ہیں اور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے وہاں پہنچ کر ادا کرتے ہیں۔ فخر کرنے کی بنیادیہ ہے کہ حاجی لوگ اپنی شہوات کا قلع قمع کر کے اس میدان میں پہنچے ہیں، جن کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں، بلکہ اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے، برخلاف فرشتوں کے کہ جن کے مزاج میں شہوت کا کوئی عنصر پایا ہی نہیں جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُاللّٰہِ، دَعَاھُمْ فَأَجَابُوْہُ، سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ)) ’’حج اور عمرہ کرنے والے لوگ اللہ تعالی کا وفد ہیں،اللہ تعالی نے اُن کو بلایا، انھوں نے (اس کے بلاوے کو) قبول کیا اور انہوں نے اللہ تعالی سے سوال کیا، اُس نے ان کو عطا کردیا۔‘‘ (البزار: رقم ۱۱۵۳، الصحیحۃ: ۱۸۲۰)
جہاں حج و عمرہ کی ادائیگی کرنے والے دور دراز کا سفر کر کے اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں، وہاں اللہ تعالی ان کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورا کرتے ہیں۔
جہاں حج و عمرہ کی ادائیگی کرنے والے دور دراز کا سفر کر کے اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں، وہاں اللہ تعالی ان کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4054
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 4055
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ ادا کرتے رہو، کیونکہ ان دونوں کو پے در پے ادا کرنے سے فقر وفاقہ اورگناہ یوں ختم ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 4056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ، وَفِيهِ: ((فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ، وَتَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سابقہ حدیث کی طرح ہی ہے، البتہ اس میں یہ فرق ہے: ان دونوں کو پے در پے بجا لانے سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مضمون کتاب و سنت میں کئی مقامات پر بیان کیاگیا ہے کہ نیکی اور تقوی کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کو رزق عطا کرتا ہے اور روزی میں برکت آ جاتی ہے، رہا مسئلہ حج وعمرہ اور اور دوسری نیکیوں کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونے کا تو سوال یہ ہے کہ ہر ایک کی تاریخ وفات کا تو فیصلہ ہو چکا ہے، پھر نیکی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونا کیسے ممکن ہے؟اس کے چار جوابات ہیں: ۱۔ اللہ تعالی تقدیر کی بعض صورتوںکو معلق رکھتے ہیں، جیسے اگر یہ بندہ نیک ہوا تو اس کی عمر اتنی ہو گی اور برا ہونے کی صورت میں اتنی، جبکہ اللہ تعالی کواس بندے کے نیک و بد ہونے کا علم ہوتا ہے۔
۲۔ عمر میں اضافے سے مراد برکت کا حصول، عمل کی توفیق اور عمر کا ضائع نہ ہونا ہے۔ ان تین امور کی وجہ سے آدمی اپنی تھوڑی زندگی میں اتنا توشۂ آخرت تیار کر لیتا ہے کہ طویل عمریں پانے والے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
۳۔ عمر میں اضافے سے مراد اس شخص کے ذکر جمیل کا باقی رہنا ہے، یعنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو دوسرے لوگوں میں نیک مشہور کر دیتا ہے، اس طرح عرصۂ دراز تک اس کی نیک نامی کا چرچا رہتا ہے۔
۴۔ دوسرے اسباب کی طرح نیکیاں بھی طویل زندگی کا ایک سبب ہے، اللہ تعالی جس شخص کو لمبی زندگی عطا کرنا چاہتا ہے تو اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے، لیکنیہ اضافہ مخلوق کے اعتبار سے ہے، رہا اللہ تعالی کے علم کا مسئلہ تو اس میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شفا کو زندگی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
۲۔ عمر میں اضافے سے مراد برکت کا حصول، عمل کی توفیق اور عمر کا ضائع نہ ہونا ہے۔ ان تین امور کی وجہ سے آدمی اپنی تھوڑی زندگی میں اتنا توشۂ آخرت تیار کر لیتا ہے کہ طویل عمریں پانے والے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
۳۔ عمر میں اضافے سے مراد اس شخص کے ذکر جمیل کا باقی رہنا ہے، یعنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو دوسرے لوگوں میں نیک مشہور کر دیتا ہے، اس طرح عرصۂ دراز تک اس کی نیک نامی کا چرچا رہتا ہے۔
۴۔ دوسرے اسباب کی طرح نیکیاں بھی طویل زندگی کا ایک سبب ہے، اللہ تعالی جس شخص کو لمبی زندگی عطا کرنا چاہتا ہے تو اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے، لیکنیہ اضافہ مخلوق کے اعتبار سے ہے، رہا اللہ تعالی کے علم کا مسئلہ تو اس میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شفا کو زندگی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4057
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کی عبادات ایک دوسرے کے بعد ادا کرتے رہو، کیونکہ یہ دونوں فقر و فاقہ اور گناہوں کو یوں ختم کرتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کوختم کر دیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت سے کم تو ہے ہی نہیں۔
حدیث نمبر: 4058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُكَفِّرَانِ مَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے اور دو عمرے اپنے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں سب سے زیادہ اخراجات حج اور عمرہ کی ادائیگی پر آتے ہیں، ان عبادات کی وجہ سے گناہوں کے معاف ہونے کا معاملہ تو واضح ہے، رہا مسئلہ ان کی وجہ سے فقر و فاقہ کے ختم ہونے کا تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی خاص برکات کا نتیجہ ہوتا ہے، جس کے حصول کے لیے بڑی رغبت کی ضرورت ہے، عام لوگ اس سے محروم رہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ حج یا عمرہ کرنے والے اسی حساب و کتاب میں پڑے رہتے ہیں کہ بہت زیادہ خرچہ ہو گیا،مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ حرص و بخل سے بچتے ہوئے حج و عمرہ کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور درمیانی آمدنی والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی اس مرتبہ کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔
حدیث نمبر: 4059
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ))، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ؟ قَالَ: ((إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزا نہیں ہے، مگر جنت۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے نبی! حج مبرور کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دوران لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور سلام عام کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((بِرُّ الْحَجِّ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِیْبُ الْکَلَامِ۔)) … ’’کھانا کھلانا اور شیریں کلام کرنا حج کی نیکی ہے۔‘‘ اس قسم کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ حج صرف مناسکِ حج کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کی برائی سے اجتناب کرنے اور ہر ممکنہ نیکی کرنے کا نام ہے۔ اس باب کی حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ سفرِ حج اور حج کے دوران کھانا کھلانا، سلام کرنا اور شیریں کلام کرنا بہترین نیکیاں ہیں، چونکہ اس موقع پر جمع ہونے والے اکثر و بیشتر لوگ مسافر اور اجنبی اور ضرورت مند ہوتے ہیں، اگر وہ آپس میں حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو ایک دوسرے کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اور تکمیلِ حج کے مراحل بھی طے ہوتے رہیں گے۔ ہم نے حج مبرور کییہ تعریف کی تھی کہ جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نیکیوں کا ذکر کیا ہے، دراصل یہ حج مبرور کی علامتوں میں سے دو علامتیں ہیں اور اس سائل کے جواب میں ان دو نیکیوں کا ذکر کرنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آدمی ان دو امور میں سستی کرتا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائل کو اس کے حال کے مطابق جواب دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4060
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے دور میںیاجوج اور ماجوج کا ظہور ہو گا اور پھر وہ ان ہی کے دور میں ہلاک ہو جائیں گے، ان کے بعد بھی خیر والا زمانہ ہو گا، جس میں حج و عمرہ کی ادائیگی عمل میں آئے گی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کی علامتوں کے سلسلے کے ظہور کے بعد بھی حج و عمرہ ادا کیے جائیں گے۔لیکن درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک تو کعبۃ اللہ تباہ ہو چکا ہو گا، پس حج و عمرہ کیسے ادا کیا جائے گا؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یُخَرِّبُ الْکَعْبَۃَ ذُوْ السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبْشَۃِ۔)) … ’’دو باریک پنڈلیوں والاحبشی کعبہ کو تباہ و برباد کر دے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَأَنِّیْ بِہٖاَسْوَدَاَفْحَجَیَقْلَعُھَا حَجَرًا حَجَرًا۔)) … ’’گویا کہ میں کالے رنگ اور کھلی پنڈلیوں والے کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کے ایک پتھر پتھر کواکھاڑ رہا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
مسند احمد میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((… ثُمَّ تَجِیْئُ الْحَبْشَۃُ فَیُخَرِّبُوْنَہٗ خَرَابًا لَایُعْمَرُ بَعْدَہٗاَبَدًا،وَھُمُالَّذِیْنَیَسْتَخْرِجُوْنَ کَنْزَہٗ)) … ’’پھرحبشہکےلوگآئیں گے اور وہ کعبہ اس طرح تباہ و برباد کر دیں گے کہ اس کے بعد کبھی بھییہ آباد نہیں ہو سکے گا اور وہی لوگ ہیں جو اس کے خزانے کو نکال لیں گے۔‘‘حافظ ابن حجر نے جمع تطبیق کییہ صورت نکالی ہے کہ اس حدیث ’’یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔‘‘ میں بیت اللہ سے مراد اس کی جگہ ہے، (یعنی بیت اللہ کی عمارت تو نہیں ہو گی، لیکن اس کی جگہ کو سامنے رکھ کر اس سے متعلقہ حج و عمرہ کے ارکان ادا کر لیے جائیں گے)۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَأَنِّیْ بِہٖاَسْوَدَاَفْحَجَیَقْلَعُھَا حَجَرًا حَجَرًا۔)) … ’’گویا کہ میں کالے رنگ اور کھلی پنڈلیوں والے کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کے ایک پتھر پتھر کواکھاڑ رہا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
مسند احمد میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((… ثُمَّ تَجِیْئُ الْحَبْشَۃُ فَیُخَرِّبُوْنَہٗ خَرَابًا لَایُعْمَرُ بَعْدَہٗاَبَدًا،وَھُمُالَّذِیْنَیَسْتَخْرِجُوْنَ کَنْزَہٗ)) … ’’پھرحبشہکےلوگآئیں گے اور وہ کعبہ اس طرح تباہ و برباد کر دیں گے کہ اس کے بعد کبھی بھییہ آباد نہیں ہو سکے گا اور وہی لوگ ہیں جو اس کے خزانے کو نکال لیں گے۔‘‘حافظ ابن حجر نے جمع تطبیق کییہ صورت نکالی ہے کہ اس حدیث ’’یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔‘‘ میں بیت اللہ سے مراد اس کی جگہ ہے، (یعنی بیت اللہ کی عمارت تو نہیں ہو گی، لیکن اس کی جگہ کو سامنے رکھ کر اس سے متعلقہ حج و عمرہ کے ارکان ادا کر لیے جائیں گے)۔
حدیث نمبر: 4061
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِمِائَةِ ضَعْفٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج کے دوران خرچ کرنا، اللہ تعالی کی راہ یعنی جہاد میں خرچ کرنے کی طرح سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج، ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل جہاد ہے، توکیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا، وَلَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) … ’’جی نہیں، تمہارے لیے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد تو حج مبرور ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱۵۲۰) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کی طرح حج و عمرہ کے سفر میں مشقت، محنت، تھکاوٹ، اپنے ساتھ زادِ راہ اٹھانے اور اپنے علاقے اور رشتہ داروں سے جدا ہونے جیسے امور پائے جاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل جہاد ہے، توکیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا، وَلَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) … ’’جی نہیں، تمہارے لیے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد تو حج مبرور ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱۵۲۰) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کی طرح حج و عمرہ کے سفر میں مشقت، محنت، تھکاوٹ، اپنے ساتھ زادِ راہ اٹھانے اور اپنے علاقے اور رشتہ داروں سے جدا ہونے جیسے امور پائے جاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 4063
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِنْ كَانَ قَالَهُ جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی میںاس روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((جِہَادُ الْکَبِیْرِ وَالصَّغِیْرِ وَالضَّعِیْفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) اس میں ’’إِنْ کَانَ قَالَہُ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔اس موضوع سے متعلقہ ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔‘‘